1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

باراک اوباما اور لاطینی امریکہ: ایک نئے باب کا آغاز؟

کیا باراک اوباما کی صدارت امریکہ اور لاطینی امریکہ کے درمیان تعلقات کی ایک نئی تاریخ لکھ پائیں گے؟

default

لاطینی امریکہ کی سوشلسٹ ریاستوں نے اوباما کے امریکی صدر بننے کا محتاط انداز میں خیر مقدم کیا تھا

Fidel Castro mit Bruder Raul und Hugo Chavez

وینیزویلا کے صدر شاویز کیوبن انقلاب کے معمار فدیل کاسترو اور ان کے بھائی راؤل کاسترو کے ساتھ

وینیزویلا کے شعلہ بیاں مارکسی صدر ہوگو شاویز نے منگل کے روز امریکی صدر باراک اوباما کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے دنیا کو جوہری اسلحے اور تنازعات سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ کیا امریکہ اور لاطینی امریکہ کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے؟

Russland und Venezuela unterzeichnen Energieabkommen

ہوگو شاویز اور روسی صدر میدیدیف۔۔۔ روس کے ساتھ قریبی تعلقات امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں


امسال جنوری میں باراک اوباما کے امریکی صدر بننے کے بعد جہاں بظاہر امریکہ کے ساتھ تصادم کا شکار مسلمان ممالک اور عرب دنیا میں امید ہوچلی کہ امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہوں گے وہاں ایک اور ایسے خطّے میں بھی ان کے صدر بننے کا خیر مقدم کیا گیا جس کے تعلقات امریکہ کے ساتھ عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ لاطینی امریکہ کی سوشلسٹ ریاستوں اور امریکہ کی سابقہ بش انتظامیہ کے درمیان تعلقات اس حد تک کشیدہ ہوچکے تھے کہ ان کے درمیان سفارتی تعلقات بھی محض نام ہی کے رہ گئے تھے۔ باراک اوباما کے صدر منتخب ہونے سے صورتِ حال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

بائیں بازو کے دانشور اور لاطینی امریکہ کی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی فاروق سہلریا کا کہنا ہے کہ باراک اوباما کے امریکی صدر بننے سے دونوں برّاعظموں کے درمیان کسی انقلابی تبدیلی کی امید تو نہیں کی جا سکتی تاہم اس میں بہتری آنے کا امکان ضرور ہے۔

Funes gewinnt Wahl in San Salvador

ایل سیلواڈور بھی ’سرخ‘ ہوگیا۔ موریشیو فونیس حال ہی میں صدر منتخب ہوگئے


کیوبا کی بائیں بازو کی حکومت اوباما کے بارے میں ملے جلے خیالات رکھتی ہے۔ اوباما کے صدر منتخب ہونے کا اس نے خیر مقدم کیا تھا تاہم بعض اوقات پر تنقید بھی کرتی رہی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بش انتظامیہ کی نسبت اوباما انتظامیہ دنیا کے ساتھ بہترتعلقات اس لیے بھی چاہتی ہے کہ امریکہ اس وقت مالیاتی بحران کا شکار ہے اور وہ دنیا کو اپنے خلاف کرنے کے بجائے ان کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ باراک اوباما اس کے لیے موزوں ترین شخص ہیں۔

Audios and videos on the topic