1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باراک اوباما ، امریکہ کے نئے صدر

امریکہ میں تاریخی لمحات کہ جب باراک اوباما ملک کے پہلے سیاہ فام صدر کی حیثیت سے حلف اٹھارہے ہیں۔

default

اوباما اور جوبائیڈن، اپنی اپنی اہلیہ کے ساتھ

یوں تو پوری دُنیا ہی نئے امریکی صدر کی تقریب حلف برداری کی منتظر تھی، تاہم امریکی عوام تاریخ کا حصہ بننے کے لئے خاصے بے قراردکھائی دئے۔

"We will start to rebuild America!"

یہ ہیں باراک اوباما کے الفاظ ، جو اب سے کچھ دیر بعد امریکہ کے 44 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے جا رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دُنیا کی سیاست پر اثرانداز ہونے والا یہ عہدہ کسی سیاہ فارم کو مل رہا ہے۔ یوں باراک اوباما ملکی تاریخ کو ایک نیا موڑ دینے جا رہے ہیں۔

Großbritannien Barack Obama bei Madame Tussauds

باراک اوباما امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر ہوں گے

تقریب حلف برداری سے پہلے کے لمحات میں باراک اوباما اپنے اہل خانہ اور نومنتخب نائب صدر جو بائیڈن کے ہمراہ ایک گرجا گھرمیں عبادت کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس میں صدر جارج ڈبلیو بش اور نائب صدر ڈک چینی سے ملاقات بھی کریں گے۔

بعدازاں یہ سب پرجوش ہجوم کے درمیان سے ہوتے ہوئے نیشنل مال پہنچیں گے یہاں تقریب حلف برداری کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جوبائیڈن نائب صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے جس کے بعد اوباما اُسی بائبل پر ہاتھ رکھ کر ملکی آئین کے تحفظ کا عہد کریں گے جس پر1861 میں ابراہام لنکن نے ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا تھا۔ تقریب حلف برداری کے بعد باراک اوباما امریکی صدر کی حیثیت سے اپنا پہلا خطاب کریں گے۔

"اب جبکہ میں عہدہ صدارت سنبھالنے کو تیار ہوں تو عوام ہی میری آواز ہے۔ میں ہر روز جب دفتری کام کا آغاز کروں گا یہ یہ آواز میرے ساتھ ہو گی۔ "

Obama Amtseinführung Mann mit Obama Mütze und Flagge vor dem Kapitol

واشنگٹن میں لاکھوں لوگ ان تاریخی لمحوں کو دیکھنے کے لئے جمع ہیں

باراک اوباما کا یہی عزم شدید سردی کے موسم میں بھی مختلف امریکی ریاستوں سے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کو واشنگٹن کھینچ لایا ہے۔ لوگ طلوع آفتاب سے قبل ہی جوق درجوق چلے آ رہے ہیں۔ ہرکوئی یہی چاہتا ہے کہ ان لمحوں کا گواہ ٹھہرے اورتاریخ کا حصہ بنے۔ اس ہجوم میں عمر، جنس اوررنگ و نسل کی تخصیص نہیں۔ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ نئے امریکی صدر کے خیرمقدم کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔ نیشنل مال کے علاقے میں جگہ جگہ ویڈیو اسکرینزنصب کی گئی ہیں۔ سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف حصوں کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس اورآرمی گارڈز گشت پر ہیں۔ دارالحکومت میں موجود سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 40 ہزاربتائی جاتی ہے جبکہ شہر کی فضائی نگرانی پر فائٹرجیٹس بھی مامور ہیں۔

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے آٹھ سال پرمحیط دور صدارت کے اختتام پر، باراک اوباما ایسے وقت میں یہ عہدہ سنبھال رہے ہیں جب امریکہ، عراق اورافغانستان کی جنگوں میں الجھا ہوا ہے۔ اقتصادی تاریخ کا بدترین مالیاتی بحران بھی ملک کو لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں جبکہ بجٹ کا خسارہ بھی ایک ٹرلین ڈالرکو پہنچ رہا ہے۔