1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باجوڑ میں خودکش حملہ، کم از کم چودہ افراد ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں آج ہفتہ کے روز نیم فوجی دستوں کی ایک چوکی کے قریب ہونے والے خودکش بم حملے میں دو فوجی اہلکاروں سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔

default

پاکستان میں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں

مقامی سیکیورٹی حکام کے مطابق اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے چند کی حالت تشویش ناک ہے۔ باجوڑ میں گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستانی فوج کے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں کافی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ افغان صوبے قندھار کے قریب ہی واقع اس پاکستانی علاقے کو القاعدہ اور طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار صحبت خان کے مطابق خودکش حملہ آور پیدل تھا جو ممکنہ طور پر پیرا ملٹری چیک پوسٹ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور چیک پوسٹ کے قریب لگائی گئی رکاوٹوں تک تو پہنچ گیا تھا، تاہم وہ انہیں عبور نہ کر سکا۔

باجوڑ کے قبائلی علاقے میں پاکستانی دستے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر اسی ہفتے کئے گئے حملوں میں 45 شدت پسندوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ اس سے قبل باجوڑ میں ایک فوجی آپریشن 2008ء میں شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد 2009ء کے شروع میں پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کو لیا گیا ہے۔ تاہم بعد ازاں وہاں سیکیورٹی دستوں اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس میں اب دوبارہ تیزی آ چکی ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغان سرحد سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقے عسکریت پسندوں کی ایسی پناہ گاہیں ہیں، جہاں سے وہ افغانستان میں نیٹو کے فوجی دستوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پاک افغان سرحد کے آر پار ان کی آمدورفت بھی جاری رہتی ہے۔

Soldat in Mingora / Pakistan

باجوڑ میں پاکستانی فوج عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے

اسی دوران جمعے اور ہفتے کی درمیان شب مبینہ امریکی جاسوس طیاروں نے پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر تین میزائل فائر کئے۔ اس علاقے میں محمد خیل کے مقام پر اس فضائی حملےمیں کم از کم نو عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

افغان صوبے خوست میں ایک خودکش بمبار کے حملے میں امریکی خفیہ ادارے CIA کےسات اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد 30 دسمبر کو بھی اسی علاقے میں ایک میزائل حملہ کیا گیا تھا، جس میں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد مقامی طالبان کے علاوہ عرب اور اُزبک جنگجو بھی مارے گئے تھے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی کو القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے حقانی گروپ کا قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی قبائلی علاقوں میں مبینہ امریکی ڈرون حملے تب سے تیز تر ہو گئے ہیں، جب سے اردن سے تعلق رکھنے والے ایک دوہرے ایجنٹ کی وہ ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں افغانستان میں خودکش حملے سے قبل اپنا آخری پیغام ریکارڈ کراتے ہوئے یہ عسکریت پسند پاکستانی طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس ویڈیو سے اس نقطہ نظر کو تقویت ملی کہ پاکستانی اور افغان طالبان کے آپس میں قریبی رابطے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

ملتے جلتے مندرجات