1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باجوڑ میں بم حملہ، پانچ نیم فوجی اہلکار اور تحصیلدار ہلاک

پاکستانی قبائلی علاقے باجوڑ میں ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کیے گئے ایک بم حملے میں اتوار سترہ ستمبر کے روز ایک سینیئر حکومتی عہدیدار اور پانچ نیم فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ یہ بم ایک سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔

default

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں میں اپنی مسلح کارروائیوں کا آغاز دو ہزار چودہ کے وسط میں کیا تھا

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے اتوار سترہ ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق مقامی حکام نے بتایا کہ شمال مغربی پاکستان میں افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب قبائلی علاقے میں یہ بم حملہ آج کیا گیا۔ باجوڑ ایجنسی کی مقامی انتظامیہ کے ایک رکن عزیز الوہاب نے بتایا کہ پاکستان کے اس علاقے کی سرحدیں ہمسایہ ملک افغانستان کے صوبے کُنڑ سے ملتی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں پولیٹیکل تحصیلدار کے علاوہ پانچ پیراملٹری فوجی بھی شامل ہیں۔

عزیز الوہاب کے مطابق ہلاک شدگان باجوڑ کے صدر مقام سے قریب 30 کلومیٹر کے فاصلے پر سفر میں تھے کہ ان کا سرکاری ٹرک سڑک پر نصب کیے گئے ایک ایسے بم کی زد میں آ گیا، جس کا دھماکا ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کیا گیا۔

فاٹا میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے طبی مراکز بند

میجر سمیت چار پاکستانی فوجی جھڑپ میں ہلاک

خیبر ایجنسی میں زمینی، فضائی آپریشن: تیرہ دہشت گرد ہلاک

دیگر اطلاعات کے مطابق یہ بم حملہ باجوڑ کی تحصیل لوئی ماموند کے علاقے تنگی گڑیگال میں کیا گیا۔ پولیٹیکل تحصیلدار فواد علی تحصیل ماموند کے اعلیٰ ترین سرکاری اہلکار تھے جب کہ ان کے ساتھ اس دھماکے میں مارے جانے والے پانچوں پیراملٹری اہلکاروں کا تعلق لیویز سے تھا۔

باجوڑ شمالی اور شمال مغربی پاکستان کے ان سات نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے، جو براہ راست وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہونے کی وجہ سے انگریزی میں مختصراﹰ ’فاٹا‘ کہلاتے ہیں۔ انہی ’وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں‘ میں پاکستانی فوج افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب کئی مقامات پر طویل عرصے سے یا تو ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح آپریشن کر چکی ہے یا ابھی تک کر رہی ہے۔

Pakistan Waziristan Soldaten im Shawal Tal

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں قائم کردہ پاکستانی فوج کی ایک چیک پوسٹ

ایک طویل سلسلے کے طور پر ان دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف اپنی مسلح کارروائیوں کا آغاز 2014ء کے وسط میں کیا تھا۔ اب تک ان کارروائیوں میں سینکڑوں عسکریت پسند اور پاکستانی فوجی مارے جا چکے ہیں لیکن شدت پسندوں کی طرف سے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے مسلح حملوں میں شہری آبادی اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔

’کھلونا‘ تو بم تھا، جنوبی وزیرستان میں چھ بچے ہلاک

پارا چنار، کوئٹہ، کراچی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 85 ہو گئی

پارا چنار میں دو دھماکے، کم از کم 10 ہلاک

افغان سرحد کے قریب انہی پاکستانی قبائلی علاقوں میں ابھی تک تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے مقامی عسکریت پسندوں کے علاوہ القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے کئی شدت پسند ابھی تک نہ صرف موجود ہیں بلکہ انہوں نے  وہاں اپنے ٹھکانے بھی قائم کر رکھے ہیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس تازہ حملے کی ذمے داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔ یہ اعتراف ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے آج ہی کسی نامعلوم جگہ سے پریس کے نام جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کیا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات