1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بات چیت کی ناکامی کا ذمہ دار اسرائیل ہو گا: عباس

تین دن بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسرائیل و فلسطین کے لیڈران بیس ماہ بعد ایک بار پھر براہ راست مذاکرات کے عمل میں شریک ہو رہے ہیں۔ تازہ بات چیت کی ناکامی کی ذمہ داری ابھی سے محمود عباس نے اسرائیل کے سر ڈال دی ہے۔

default

محمود عباس: فائل فوٹو

امریکی صدر اوباما کے مشرق وسطیٰ کے لئے مقرر مندوب جارج میچل کی مسلسل سفارت کاری اب رنگ لانے لگی ہے اور فریقین ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے معطل بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے والے ہیں۔ پرسوں، بدھ، پہلی ستبمر کو امریکی صدر اوباما مصری صدر، اردن کے فرماں روا، فلسطینی اتھارٹی کے لیڈر محمود عباس اور اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ خصوصی ملاقاتیں کریں گے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست بات چیت جمعرات دو ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی موجودگی میں شروع ہو گی۔

گزشتہ روز اتوار کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ٹیلی وژن پر خصوصی تقریر میں واضح کیا کہ اگر بات چیت کا تازہ مرحلہ یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے پر ناکام ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار اسرائیل ہو گا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مذاکرات میں دوبارہ شرکت کی تجویز قبول کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ سمیت تمام شریک ملکوں کے لیڈروں پر واضح کر دیا تھا کہ اگر اسرائیل مقبوضہ عرب علاقوں میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھتا ہے تو اسرائیلی ہٹ دھرمی مذاکراتی عمل کو دوبارہ سے پٹری سے اتار دے گی۔

Nahostreise Hillary Rodham Clinton 2009

اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی وزیر خارجہ: فائل فوٹو

اسر ائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست بات چیت کا عمل اس وقت تعطل کا شکار ہو گیا تھا جب اسرائیل نے غزہ پٹی پر انتہاپسند حماس کے خلاف فوج کشی کی تھی۔ فلسطینی ٹیلی وژن پر تقریر کرتے ہوئے عباس کا کہنا تھا کہ ان کا خطہ تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اسرائیل بات چیت کے دوران ذمہ دارای کا احساس کرتے ہوئے اہم فیصلے کرے گا جن میں مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور فلسطین کی سکیورٹی کی ضمانت اہم ہے۔ محمود عباس کو اسرائیلی وزیر اعظم کی امن بات چیت میں مثبت شرکت کا یقین نہیں ہے۔

نئی مذاکراتی عمل میں کسی بھی ممکنہ امن ڈیل کے لئے امریکہ نے ایک سال کا عرصہ مختص کیا ہے اور اس بارے میں اسرائیل کے وزیر خارجہ لیبر من نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ ایک سال کے اندر کسی امن ڈیل پر اتفاق ناممکنات میں سے ہے۔ لیبر من کا مزید کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ نئی یہودی بستیوں کی تعمیر پر کابینہ مزید پابندی کو طول نہیں دے گی۔ نائب وزیر اعظم شالوم کے مطابق اس بارے میں اسرائیلی پارلیمنٹ مذہبی تعطیلات کے بعد ووٹنگ کر سکتی ہے۔ اسرائیل نے سردست یک طرفہ طور پر مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر پر دس ماہ کی عارضی پابندی گزشتہ نومبر سے عائد کر رکھی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس