1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بابری مسجد کے حق ملکیت معاملے میں تاریخی فیصلہ

بھارتی عدلیہ نے ایودھیا میں بابری مسجد کے حق ملکیت سے متعلق مقدمے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ نے کہا کہ بھگوان رام لیلا کی مورتی کو اس کی موجودہ جگہ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔

default

1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

ججوں نے حالانکہ الگ الگ فیصلے دئے ہیں لیکن متفقہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ مسجدکے اصل گنبد کے نیچے، جہاں رام لیلا کی مورتی رکھی گئی تھی، اسے ہٹایا نہیں جائے گا۔ تاہم متنازعہ مقام کے ایک حصے کو جسے ’سیتا کی رسوئی‘ کہا جاتا ہے، ہندوؤں کے ایک گروہ نرموہی اکھاڑا کو دیا جائے گا جبکہ عدالت نے ایک حصے پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا ہے۔

Indien Ayodhya Urteil Moscheegelände wird geteilt

جمعرات کے روز ایودھیا میں ٹیلی وژن پر عدالتی فیصلے کی خبر کےمنتظر ہندو مذہبی رہنما

مجموعی طور پر عدالت نے سنی وقف بورڈ کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ ایک رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کر دیا ہے اور اسی کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ’خوش کرنے کی کوشش‘ بھی کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ یہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے اور مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وہاں ایک عظیم الشان رام مندر تعمیر کرنے میں تعاون کریں۔

ہا ئی کورٹ نے ملک بھر میں انتہائی غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے تحت بابری مسجد کے حق ملکیت کے معاملے میں چار مقدموں کے سلسلے میں اپنا فیصلہ سنایا۔ لکھنؤ بنچ کے تین ججوں جسٹس سدھیر اگروال، جسٹس صبغت اللہ اور جسٹس دھرم ویر شرما نے یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔

بابری مسجد کے حق ملکیت کا مقدمہ بھارتی عدلیہ کی تاریخ میں ایک ایسا مقدمہ ہے، جس کی وجہ سے ملک میں کئی مرتبہ سیاسی اور سماجی ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ دراصل یہ معاملہ زمین کے صرف ایک ٹکڑے کانہیں ہے بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے مذہبی اعتقاد اور آئین کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔

Sicherheitskräfte bewachen eine Moschee vor dem mit Spannung erwarteten Urteil des Supreme Courts zu Ayodhya in Bhopal

ممکنہ مذہبی کشیدگی کے باعث بھوپال میں ایک ہندو مندر کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار

اس تنازعے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ آج کا فیصلہ اس معاملے میں ایک اہم قانونی پڑاؤ ہے۔ حالانکہ یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے اور آ ج کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کئے جانے کا متبادل بھی باقی ہے۔

اس مقدمے کے دوران تمام فریقین نے نہ صرف زبانی بلکہ دستاویزی، قانونی، مذہبی اور ادبی کتابوں سے بھی ہزاروں صفحات پر مشتمل حوالے دئے۔ عدالت نے معاملے کی تہہ تک جانے کے لئے پہلی مرتبہ محکمہ آثار قدیمہ سے کھدائی کرا کے ماہرین کی ایک رپورٹ بھی حاصل کی۔ بھارتی عدلیہ کی تاریخ میں یہ ایسا پہلا معاملہ ہے جب مقدمے میں مدد کے لئے محکمہ آثار قدیمہ کی مدد لی گئی۔

لکھنؤ بنچ کے فیصلے سے قبل ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ صرف ریاست اترپردیش میں ہی دو لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ فرقہ ورانہ لحاظ سے ملک کے تمام شہروں میں نیم فوجی دستوں کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ بھی حالات پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

Polizeikräfte am Charbagh Bahnhof in Lucknow am 22.9.2010

عدالتی فیصلے سے قبل لکھنؤکے چار باغ ریلوے اسٹیشن کے قریب امن عامہ کو یقینی بنانے والے سکیورٹی اہلکار

وزیر داخلہ پی چدمبرم نے سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ وہ ان سے مطمئن ہیں۔ مرکزی حکومت نے مدد کے لئے فضائیہ سے پہلے سے ہی تیار رہنے کو کہہ دیا تھا تاکہ ضرورت پڑنے پر فورسز کی تعیناتی فوری طور پر کی جا سکے۔ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کو بھی کو تیار رہنے کے لئے کہا جا چکا ہے۔

ریاست مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور کرناٹک کے بعض حساس علاقوں میں جہاں گڑ بڑ کے خدشات ہیں، خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ دارالحکومت نئی دہلی میں دولت مشترکہ کھیلوں کے سبب پہلے ہی سے زبردست سکیورٹی کے انتظامات ہیں اور شہر میں اس وقت تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زائد اہلکار متعین ہیں۔ تاہم بیشتر اہم سڑکیں سنسان دکھائی دت رہی ہیں۔

فیصلے سے قبل لکھنؤ ہائی کورٹ کو زبردست سکیورٹی حصار میں لے لیا گیا تھا۔ صرف ججوں اور مقدمے سے متعلق افراد کو ہی عدالت کے اندر جانے کی اجازت تھی۔ عدالت میں کسی کو موبائل فون لے جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ نامہ نگاروں کے لئے ضلعی کلکٹریٹ کے باہر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ عام کرنے کے لئے ایک خصوصی ویب سائٹ لانچ کی گئی ہے، جس پر فیصلے کا پورا متن موجود ہے۔ اس ویب سائٹ کا پتہ ہے: www.alahabadhighcourt.in

رپورٹ: افتخارگیلانی، نئی دہلی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس