1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بابری مسجد کا انہدم، ’یوم سیاہ‘ بھی اور ’یوم فتح‘ بھی

بھارت میں بابری مسجد کے انہدام کو آج چھ دسمبر کو پچیس برس مکمل ہو گئے۔ مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس موقع پر کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ایودھیا میں سلامتی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

ایودھیا کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس سنجے کمار نے بتایا کہ مختلف چوکیوں پر شہریوں کی تلاشی لی گئی جبکہ اس موقع پر سراغ رساں کتوں اور بم ڈسپوزل اسکوڈ بھی موجود تھا۔

وشوا ہندوں پریشد اور بجرنگ دل جیسی دائیں بازو کی شدت پسند ہندو تنظیموں نے آج کے دن کو یوم فتح کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ ان تنظیموں نے جڑواں شہروں ایودھیا اور فیض آباد میں اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں میں چراغ روشن کریں۔ اسی طرح انڈین یونین مسلم لیگ اور کچھ اور مسلم تنظیموں نے آج یوم سیاہ منایا۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بابری مسجد کے انہدام کے موضوع پر ہونے والے ایک مباحثے کو بھی حالات میں کشیدگی کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔ یہ مباحثہ حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک متنازعہ رہنما کی جانب سے منعقد کیا جا رہا تھا۔

بابری مسجد کے ارد گرد کا علاقہ مسلمانوں کی ملکیت یا ہندوؤں کی؟

بابری مسجد کی تحقیقاتی رپورٹ افشا، زبردست ہنگامہ

ایودھیا تنازعے پر عدالتی فیصلہ ہماری جیت ہے، بی جے پی

بابری مسجد کا انہدام: ایڈوانی اور ساتھیوں پر سازش کا الزام

خیال رہے کہ بابری مسجد تنازعے کا آغاز 1853ء میں اس وقت ہوا، جب بابری مسجد کے معاملے پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک جھڑپ ہوئی تھی۔ تاہم اس کے بعد بھی مسجد میں نماز ہوتی رہی حتی کہ 23 دسمبر 1949ء کی شب چند ہندوؤں نے مسجد میں داخل ہو کر اس کے منبر پر رام جی کی مورتیاں رکھ دیں اور صبح سویرے اعلان کردیا کہ مندر میں بھگوان رام پر کٹ نمودار ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد مقامی انتظامیہ نے وہاں مسلمانوں کے نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ہندو رام مندر کی تعمیر کی مسلسل کوششیں کرتے رہے حتی کہ چھ دسمبر 1992ء کو مسجد منہدم کر کے وہاں عارضی رام مندر تعمیر کر دیا گیا۔ جہاں آج تک باضابطہ پوجا ہو رہی ہے۔

DW.COM