1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بابری مسجد انہدام کی انیسویں برسی

سولہویں صدی میں تعمیر بابری مسجد کے انہدام کی انیسویں برسی کے موقع پر آج ملک بھر میں سکیورٹی کے زبردست انتظامات کیے گئے ہیں۔ کئی شہروں میں امتناعی احکامات نافذ کردیے گئے ہیں۔

default

یوں تو بابری مسجد کے انہدام کی برسی کے موقع پر ہر سال سیاسی ماحول گرم ہوجا تا ہے لیکن اس مرتبہ اس میں کچھ زیادہ ہی شدت دکھائی دے رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اگلے سال ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں اسے اپنے لیے ایک سنہرے موقع میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔

کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوؤں کے جذبات کا استحصال کررہی ہے۔ دوسری طرف BJP نے واضح کردیا ہے کہ اس نے رام مندر کی تعمیر کا معاملہ نہیں چھوڑا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ پارٹی نے رام مندرکے معاملے کو ترک نہیں کیا ہے بلکہ وہ اسے اقتصادی امور جیسے دیگر معاملات کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

Indien Babri Masjid Moschee in Ayodhya

بابری مسجد

بابری مسجد کے انہدام کی انیسویں برسی کو آج قوم پرست ہندو تنظیم RSS اور وشو ہند و پریشد یوم فتح کے طور پر منارہی ہیں جب کہ مسلمان اسے یوم غم کے طورپر منارہے ہیں۔ اس موقع پر مختلف مسلم تنظیموں نے ملک بھر میں دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا جس میں بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لیے حکومت سے مطالبہ کیا گیا۔ آج بھارت میں یوم عاشورہ بھی ہے جس کی وجہ سے اس سال حفاظتی اقدامات سابقہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں۔ اس دوران جنوبی ریاستوں کرناٹک اور کیرالہ میں تشدد کے واقعات کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

Indien Babri Masjid Moschee in Ayodhya

بابری مسجد کے انہدام کی انیسویں برسی کو آج قوم پرست ہندو تنظیم RSS اور وشو ہند و پریشد یوم فتح کے طور پر منارہی ہیں

1992 میں 6 دسمبر کو ریاست اترپردیش کے اجودھیا میں انتہاپسند ہندوؤں نے مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے سپہ سالار میر باقی کی تعمیر کردہ تاریخی بابری مسجد کو منہدم کردیا تھا ۔ مسجد کے انہدام کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں 2000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جس وقت بابری مسجد منہدم کی جارہی تھی اس وقت قوم پرست ہندو تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی سینئر رہنما بشمول لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی وغیرہ وہاں موجود تھیں۔ ان کے خلاف کئی مقدمات بھی درج کیے گئے۔ اُس وقت کی کانگریسی حکومت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے بابری مسجد انہدام کی انکوائری کے لیے لبراہن کمیشن قائم کیا تھا۔کمیشن نے اپنی مدت کار میں درجنوں توسیع کے بعد بالآخر پچھلے سال اپنی رپورٹ پیش کردی لیکن اسے اب تک عام نہیں کیا گیا ہے۔

Polizeikräfte am Charbagh Bahnhof in Lucknow am 22.9.2010

متعدد رہنماؤں نے بابری مسجد کی اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کیے جانے سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کے گذشتہ سال کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے

دوسری طرف بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر کردہ عارضی رام مندر کی حفاظت پر گذشتہ 19 برسوں کے دوران حکومت کروڑوں روپے خرچ کرچکی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق احاطہ کی باڑھ اور تار لگانے پر ہی تین کروڑ روپے خرچ ہوئے ’سیکورٹی چوکی پر آٹھ لاکھ روپے ‘ نگرانی پر 25 لاکھ روپے خرچ ہوئے جب کہ سلامتی دستوں کی رہائش گاہوں پر بھی کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ احاطہ میں بجلی کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے چار لاکھ روپے کی لاگت سے خریدے گئے جنریٹر کے باوجود بجلی پر ماہانہ تین لاکھ روپے خرچ ہورہے ہیں۔ جب کہ سکیورٹی کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر بھی کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں۔

اس دوران متعدد رہنماؤں نے بابری مسجد قضیہ کا جلد از جلد حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے بابری مسجد کی اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کیے جانے سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کے گذشتہ سال کے فیصلے کو ناقابل قبول اور بندر بانٹ قرار دیا ہے۔ مسلم رہنماوں نے بھی بابری مسجد انہدام کے قصورواروں کو جلد از جلد سزا دلانے کی اپیل کی ہے۔ ملک کی سب سے منظم مسلم تنظیم جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اعجاز احمد اسلم نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کا سانحہ ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں اور تمام حق و انصاف پسند عوام کے دلوں میں نشتر کی طرح چبھتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کو دوبارہ اسی جگہ پر تعمیر کرنا قانون کی بالادستی کا معاملہ ہے اور جب تک بابری مسجد کو دوبارہ اسی جگہ پر تعمیر نہیں کیا جاتا بھارت کے ماتھے سے کلنک کا دھبہ دھل نہیں سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ملک کی عدلیہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے گی۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM