1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بابری مسجد انہدام کی انکوائری رپورٹ پیش

بھارت میں ریاست اترپردیش کے اجودھیا شہر میں تاریخی بابری مسجد کے انہدام کی انکوائری کرنے والے جسٹس لبراہن کمیشن نے 17 سال کے طویل انتظارکے بعد بالآخرمنگل کے روز اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ دی۔

default

بھارتیہ جنتا پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس رپورٹ کے منظر عام آنے کے بعد اس کا ہنوا توا کا ایجنڈا اور زور پکڑے گا

ریٹائرڈ جسٹس ایم ایس لبراہن نے 17سال کی طویل مدت کے بعد چار جلدوں پر مشتمل اپنی رپورٹ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو سونپ دی۔ اس موقع پر وزیرداخلہ پی چدمبرم بھی موجود تھے۔ جسٹس لبراہن نے کہا کہ انہوں نے اس رپورٹ میں کئی لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا ہے تاہم ان افراد کی نشاندہی کرنے سے انکار کردیا۔

خیال رہے کہ ہندو انتہاپسندوں نے 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا میں واقع تقریبا ساڑھے چار سو سال پرانی تاریخی بابری مسجد کو منہدم کردیا تھا۔ بابری مسجد کے مسمارکئے جانے کے موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، ونے کٹیار اور اومابھارتی سمیت متعدد ہندو لیڈران بھی موجود تھے۔ اس واقعہ کے دس دن بعد جسٹس لبراہن کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر یعنی 16 مارچ 1993 تک اس بات کا پتہ لگا کر اپنی رپورٹ دینی تھی کہ کن حالات کے نتیجے میں بابری مسجد مسمار کی گئی۔ لیکن یہ بھارت کی تاریخ کا سب سے طویل انکوائری کمیشن ثابت ہوا اور اس کی مدت کار میں ریکارڈ 48مرتبہ توسیع کی گئی۔آخری توسیع پچھلے سال مارچ میں کی گئی۔ ا س کمیشن پر مجموعی طور پر 8 تا 9 کروڑ روپے کا صرفہ آیا۔

بابری مسجدکے انہدام کے بعد وہاں پر ایک عارضی مندر تعمیرکردیا گیا۔ بعض ہندووں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بھگوان رام اسی مقام پر پیدا ہوئے تھے اس لئے وہ وہاں ایک عظیم الشان مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک کے کئی حصو ں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں بڑی تعداد میں مسلمان مارے گئے۔

بابری مسجد کی بازیابی کی تحریک بابر ی مسجد کوارڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر اور مشہور وکیل ظفریاب جیلانی کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے کم از کم یہ تو پتہ چل ہی جائے گا کہ بابری مسجد کی شہادت میں کن لوگوں کا کیا رول رہا۔ خاص طور پر اس وقت کے اترپردیش کے وزیر اعلی کلیان سنگھ اور وزیر اعظم نرسہما راؤ حکومت کا کیا رول تھا اور ان دونوں حکومتوں کے اعلٰی افسران یعنی چیف سیکریٹری اور کیبنیٹ سیکریٹری نے کیا رول ادا کیا۔

ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ اس رپورٹ سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جن لوگوں کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں اب یہ معلوم ہوجائے گا کہ ان کے خلاف مزید مقدمات قائم کئے جاسکتے ہیں یا نہیں کیوں کہ بی جے پی کی قیادت والی سابقہ این ڈی اے حکومت نے اس کیس میں ملزم متعدد بڑے لیڈروں کے خلاف کئی معاملات واپس لے لئے تھے۔

ظفریاب جیلانی نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں تاخیر کی بڑی وجہ سیاسی رہی ہے۔ سیاسی رہنماؤں اور حکمرانوں نے اس میں ہر ممکن رخنہ اندازی کی۔ پہلے این ڈی اے کی حکومت میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی نے پانچ سال کی تاخیر کرائی اس کے بعد کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بھی اپنے دور میں اس میں پانچ سال کی تاخیر کی۔ انہوں نے بہر حال امید ظاہر کی کہ رپورٹ آنے کے بعد اب بابری مسجد کی شہادت کے ملزمان کو سزا مل سکے گی۔ ظفریاب جیلانی نے مزید کہا: ’’رپورٹ ایک دستاویز ہوتا ہے اور عدالتی کمیشن کی بہر حال اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے اس لئے اگر حکومت اس پر کارروائی نہیں کرتی ہے تو قانون کا سہارا لے کر کارروائی کرائی جاسکتی ہے جیسا کہ 1993کے ممبئی فسادات کے سلسلے میں جسٹس سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کے معاملے میں ہوا، جب حکومت کی طرف سے کارروائی کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے پر سپریم کورٹ نے مداخلت کی۔‘‘

ظفریاب جیلانی نے کہا کہ یہ رپورٹ ایک تاریخی رپورٹ ہے کیوں کہ بابری مسجد کی شہادت 20ویں صدی کی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ ہے اور اس واقعہ نے ملک میں قانون کی حکمرانی، عدلیہ کے وقار اور سیکولرازم سب کو داؤ پر لگا دیا ۔

لبراہن کمیشن کی رپورٹ آنے پراترپردیش کی وزیر اعلٰی اور حکمراں بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایاوتی نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس کی قیادت والی مرکز کی متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کیا قدم اٹھاتی ہے۔ انہوں نے کہا : ’’پورا ملک یہ دیکھ رہا ہے کہ مرکز کی یو پی اے حکومت کس طرح اور کتنی تیزی سے کارروائی کرتی ہے اور وہ قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کی کتنی جرات دکھاتی ہے کیوں کہ ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ متنازعہ ڈھانچے کو گرانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے‘‘۔

دریں ا ثناء بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی کی رہائش گاہ پر پارٹی کے اعلٰی رہنماوں کی میٹنگ ہوئی۔ انہوں نے رپورٹ پیش کئے جانے کے وقت پر سوال اٹھایا اور اسے جلد ازجلد پارلیمان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی ذرائع نے تاہم کہا کہ اس رپورٹ سے بی جے پی کو ہندوتوا کے اپنے ایجنڈے کو دوبارہ زورشور سے پیش کرنے میں مدد ملے گی۔

رپورٹ : افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت : عاطف توقیر