1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بااثر یونانی خانقاہ کا ایبٹ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار

یونان میں آرتھوڈوکس مسیحیوں کی ایک انتہائی مالدار اور مضبوط اثر و رسوخ کی حامل خانقاہ کے ایبٹ کو زمین کی فروخت کے اسکینڈل میں جیل بھیج دیا گیا۔ ماسکو اور ایتھنز کے قدامت پسند حلقوں نے اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔

default

ایک ہزار برس پرانی مقدس واتو پیدی خانقاہ ماؤنٹ ایتھوس کے علاقے میں واقع ہے جو کہ آرتھوڈوکس مسیحیت کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔ بدھ کے روز جیل بھیجے جانے والے ایبٹ افرائیم کی گرفتاری سے روس کے ساتھ بھی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس نے اس اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

قبرصی نژاد 56 سالہ افرائیم پر الزام ہے کہ انہوں نے چھ برس قبل ایک اسکیم کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت مسیحی راہبوں نے سرکاری عہدیداروں کو سستی زرعی اراضی کو ایتھنز کی پرکشش رہائشی املاک کے عوض تبادلے پر آمادہ کر لیا تھا۔ اس اراضی میں جھیلیں بھی شامل تھیں۔ وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے یونانی ریاست کو کروڑوں یورو کا نقصان پہنچا تھا۔

Mönche vom Kloster Athos

درجنوں راہبوں نے ایبٹ افرائیم کی رہائی کے حق میں مظاہرہ کیا

افرائیم جن کا اصلی نام واسیلیوس کوتسو ہے، نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ انہیں یونان کی سب سے بڑی جیل کوری ڈالوس میں حراست میں رکھا جا رہا ہے اور اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑ سکتا ہے۔

وکلائے استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پر عائد الزامات کی سنگینی کے باعث انہیں مقدمے کی سماعت سے قبل ہی جیل میں رکھا جائے۔

یونانی قانون سازوں نے اس اسکینڈل پر تین سابق حکومتی وزراء کے بارے میں بھی تحقیقات کی تھیں مگر انہیں حاصل استثناء کی بناء پر یہ سلسلہ روک دیا گیا تھا۔

ان وزراء کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادنٰی درجے کے سرکاری اہلکاروں کے مشورے پر اس منصوبے کی توثیق کی تھی تاہم اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے اعلٰی افسران نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔

Katholische Kirche Russisch-orthodoxe Kirche Ilia II Kiew Ukraine

روس میں لاکھوں آرتھوڈوکس مسیحی ماؤنٹ ایتھوس کمیونٹی کے عقیدت مند ہیں

بہت سے یونانی شہریوں کے نزدیک ملک کے اقتصادی مسائل کے لیے پادریوں کی بجائے سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔

انتہائی دائیں بازو کی جماعت لاؤس پارٹی کے رہنما جارج کارات زافیرس نے کہا، ’’انہوں نے افرائیم کو تو جیل بھیجنے میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا جبکہ یونانی عوام کے پیسے خورد برد کرنے والے لوگ اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔‘‘

کئی سرکاری عہدیداروں کے بارے میں پارلیمانی تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی بھی اعلٰی سیاست دان پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔

ادھر سیاہ لباس میں ملبوس درجنوں راہبوں نے جیل کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ایبٹ افرائیم کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے عقیدت مندوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی ان کے حق میں حمایت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔

اس معاملے پر روس اور یونان کی خارجہ امور کی وزارتوں میں بھی تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’ہمیں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کی سفارشات کے باوجود یونانی عدالت کی جانب سے انہیں مقدمہ چلنے سے قبل ہی گرفتار کرنے کے فیصلے پر سخت تشویش لاحق ہے۔‘‘ یونان کی وزارت خارجہ نے روسی تشویش کو مسترد کر دیا ہے۔

روس میں لاکھوں آرتھوڈوکس مسیحی ماؤنٹ ایتھوس کمیونٹی کے عقیدت مند ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM