1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بائیں بازو کی جرمن جماعتیں انضمام کی راہ پر

بائیں بازو کی جماعت Linkspartei کی پارٹی کانگریس کل اتوار کو شہر Halle میں جبکہ انتخابی متبادل برائے محنت وَ سماجی انصاف نامی جماعت WASG کی پارٹی کانگریس شہر Ludwigshafen میں منعقد ہوئی۔ دونوں جماعتوں کے مندوبین نے زیادہ سے زیادہ جون سن 2007ء تک دونوں جماعتوں کو ملا کر ایک بڑی جماعت کی صورت دینے کی وَکالت کی۔

سابق جرمن وزیرِ مالیات اوسکر لافونتین

سابق جرمن وزیرِ مالیات اوسکر لافونتین

درحقیقت اب سے کئی مہینے پہلے ہی اِن دونوں جماعتوں کی مرکزی مجالسِ عاملہ کے درمیان ایک سمجھوتہ طَے ہو گیا تھا ، جس میں ایک مشترکہ جماعت وجود میں لانے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔ شرط یہ طَے ہوئی تھی کہ مختلف جرمن صوبوں کے علاقائی پارلیمانی انتخابات میں یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے پر اُمیدوار کھڑے نہیں کریں گی۔

لیکن عین یہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، WASG کی صوبائی شاخیں، جرمن صوبوں برلن اور میکلن برگ فور پومَرن میں، جہاں ستمبر میں علاقائی پارلیمانی انتخابات منعقد ہونےوالے ہیں۔

اِن دونوں صوبوں میں بائیں بازو کی جماعت Linkspartei اور جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD نے مخلوط حکومتیں تشکیل دے رکھی ہیں۔ WASG کے رہنما اِن دونوں صوبوں میں حکومتی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں اور اِسی لئے اب وہ WASG کی مرکزی قیادت کے منع کرنے کے باوجود اپنے اُمیدوار میدان میں لانا چاہتے ہیں۔

تاہم اِس طرح کی رکاوٹوں کے باوجود Linkspartei کے چیئرمین لوتھار بسکی WASG کے ساتھ انضمام کے حوالے سے پُر اُمید ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور ٹریڈیونین تنظیموں کے مایوس کارکنوں کی قائم کردہ WASG کے بغیر جرمن پارلیمان کے گذشتہ برس کے انتخابات میں Linkspartei کےلئے، جس میں سابق مشرقی جرمن کمیونسٹ بھی شامل ہیں، 8,7 فیصد ووٹوں کا حصول ممکن ہی نہیں تھا۔

Bisky کہتے ہیں کہ WASG کا قیام ساتھ ساتھ اُن کی اپنی جماعت Linkspartei پر بھی ایک طرح کی عملی تنقید کے مترادف تھا۔ اور اِس لئے وہ ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ نئی مشترک جماعت کی تشکیل کے عمل میں خود Linkspartei کو بھی بدلنا ہو گا۔

Bisky کے برعکس کل شہر Ludwigshafen میں سابق جرمن وزیرِ مالیات اوسکر لافونتین کےلئے اپنی جماعت کے کارکنوں کو قائل کرنا قدرے مشکل ثابت ہوا۔ Lafontaine نے ملک بھر سے آئے ہوئے WASG کے مندوبین سے یہ کہا کہ اُنہیں اپنے باہمی اختلافات کی وجہ سے جرمنی میں بائیں بازو کی ایک طاقتور جماعت کے قیام کے موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔

اوسکر لافونتین نے کہا کہ پوری دُنیا میں حالات بدل رہے ہیں، مثلاًجنوبی امریکہ میں ایسے سوشلسٹ سربراہانِ مملکت برسرِ اقتدار آ رہے ہیں ، جو خام مال کے شعبے میں امریکی سامراجیت کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ لافونتین نے کہا، وہ جرمنی کے بائیں بازو کے کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یورپ بھر کی اُن قوتوںکو مایوس نہ کریں، جو جرمنی میں بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔

لافونتین نے جرمن قوانین میں ایسی ترامیم کی ضرورت پر زور دیا، جن کے نتیجے میں عام ہڑتال کی جا سکتی ہو اور یوں حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہو۔ یہ دونوں جماعتیں ضَم ہو کر جرمنی کی بڑی روایتی سیاسی جماعتوں کےلئے ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کرنے کی اُمید کر رہی ہیں۔