1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بائیس افراد کو ہلاک کرنے والے چیتے کی تلاش

نیپال میں ایک ایسے چیتے کو تلاش کیا جا رہا ہے جو ماضی میں بائیس افراد کی ہلاکتوں کا باعث بنا ہے اور اب پھر اس نے ایک چالیس سالہ عورت کو حملہ کر کے زخمی کر دیا ہے۔

نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ایک چالیس سالہ خاتون جنگل  میں مویشیوں کے لیے چارہ جمع کر رہی تھی جب اس پر چیتے نے حملہ کر دیا۔ پولیس افسر کمال بستا کے مطابق،’’ اس عورت کے ہاتھوں اور چہرے پر زخم آئے ہیں  اور اس کا ایک مقامی ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔‘‘  مقامی میڈیا کے مطابق یہ چیتا گزشتہ پانچ برسوں میں بائیس افراد کو ہلاک کر چکا ہے۔

نیپال کی انتظامیہ نے گزشتہ برس بھی چیتے کی تلاش کا آغازکیا تھا۔ تب اس چیتے نے چار  اور سات سالہ دو بچیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اب اس چیتے کی تلاش کے لیے 17 مسلح پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو پورے علاقے میں اس چیتے کی تلاش کا کام کریں گے۔

پولیس افسر کمال بستا کے مطابق ،’’ عورت پر حملہ کرنے کے بعد سے یہ چیتا غائب ہے۔ ہمیں گاؤں کے افراد نے کہا ہے کہ ان کی زندگیوں کو اس چیتے سے خطرہ ہے لہذا ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اس جانور کو تلاش کر لیا جائے۔‘‘ اس پولیس افسر کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں جنگلی حیات کے ماہرین کے بغیر ہی اس تلاش کا  آغاز  کرنا پڑا ہے کیوں کہ وہ بھارت کی مغربی سرحد کے ساتھ نیپال کے اس علاقے میں موجود ہی نہیں ہیں۔

دوران حیض گھر سے بے دخلی ایک لڑکی کی جان لے گئی

نیپال میں قدیم ہندو روایت ’چوپاڈی‘ کے خلاف قانون سازی

اس چیتے نے تین دیہاتوں کے افراد کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔ تین ماہ قبل اس  چیتے نے اس چالیس سالہ عورت پر حملہ کر دیا تھا جو نیپال کی قدیم روایت چوپاڈی کے باعث حیض کے دوران گھر سے باہر سونے پر مجبور تھی۔

DW.COM