1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ای کولی بیکٹیریا کے ممکنہ پھیلاؤ کا سبب ’پھلی کی ڈنڈیاں‘

جرمن حکام نے کہا ہے کہ ای کولی بیکٹیریا کے جان لیوا اسٹرین کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ جرمنی میں اگائی جانے والی مخصوص پھلی کی ڈنڈیاں ہوسکتی ہیں۔ اس بیکٹیریا کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے۔

default

جرمن صوبے لوئر سیکسنی کے وزیرِ زراعت گیرٹ لِنڈرمان Gert Lindermann نے اتوار کے روز کہا کہ محققین نے اس خطرناک بیکٹیریا کی موجودگی کے اثرات Uelzen نامی ڈسٹرکٹ کے ایک فارم میں تلاش کیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فارم ہیمبرگ کے جنوب میں 70 کلومیٹر دور Bienenbuettel نامی قصبے میں ہے۔

ای کولی بیکٹیریا سے ہونے والی انفیکشن کے باعث تین ہفتوں کے دوران اب تک دو ہزار دو سو سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ لِنڈرمان کے بقول ای کولی سے متاثرہ افراد کی طرف سے کھائی گئی خوراک اور اس فارم کی سبزیوں کے درمیان تعلق کے واضح اشارے ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیکٹیریا کے پھیلاؤ کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

ای کولی بیکٹیریا کی وجہ سے روس نے یورپ سے سبزیوں اور پھلوں کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ روسی وزیراعظم ولادیمیر پوٹن نے کہا تھا کہ وہ اس پابندی کا خاتمہ کرکے روسی عوام کو بیمار نہیں کرنا چاہتے۔ ای کولی وائرس کے اثرات اب تک 12 ممالک میں پھیل چکے ہیں۔ جبکہ یہ خطرناک بیکٹیریا امریکہ بھی پہنچ چکا ہے۔

ای کولی کے باعث اب تک 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے

ای کولی کے باعث اب تک 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے

لوئرسیکسنی کے وزیر صحت گیرٹ لنڈرمان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پھلی کی ڈنڈیوں کے علاوہ اس فارم کی دیگر کئی سبزیوں کی ڈنڈیاں بھی اس بیکٹیریا کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہیں۔

اس سے قبل خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ای کولی بیکٹیریا کے جان لیوا اسٹرین کے پھیلاؤ کی وجہ ہسپانوی کھیرے ہوسکتے ہیں۔ ہسپانوی کسانوں کے مطابق ان کی اگائی گئی سبزیوں کی فروخت میں کمی کے سبب انہیں ہر ہفتے دو سو ملین یورو کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق وہ زر تلافی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

بیماریوں پر قابو پانے کے یورپی مرکز کی طرف سے جاری کردہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق ای کولی کے باعث اب تک 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ سویڈن میں ایک خاتون کی ہلاکت کے علاوہ باقی سب ہلاکتیں جرمنی میں ہوئی ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس