1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایہود، عباس اور شٹائنمائر کی ملاقاتیں

جرمن وزیرِ خارجہ فرانک والٹر شٹائنمائر نے آج اسرائیلی اور فلسطینی سربراہانِ مملکت سے ملاقات کی۔

default

جرمن وزیرِ خارجہ فرانک والٹر شٹائنمائر

اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود باراک اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ساتھ حالیہ ملاقاتیں شٹائنمائر کے دورہء مشرقِ وسطیٰ کی کڑیاں تھیں۔

فرانک والٹر شٹائنمائر اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ملاقات مغربی کنارے کے قصبے رملّہ میں ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد شٹائنمائر فلسطینی عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مغربی کنارے میں جرمنی کے تعاون سے جاری منصوبوں کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل انہوں نے یروشلم میں اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود باراک سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کا موضوع خطے میں سیاست اور دفاع سے متعلق موضوعات رہے۔ جرمن وزیرِ خارجہ نے اسرائیل اور فلسطین دونوں کو کسی ایسے اقدام سے گریز کرنے پر زور دیا جس سے امن عمل میں رُوکاوٹ آنے کا خدشہ ہو چاہے وہ غزہ پٹی سے اسرائیل پر راکٹ حملے ہوں یا اسرائیلی بستیوں کی توسیع۔


شٹائنمائر کے مشرقِ وسطٰی کے دورے کا پہلا پڑاوء لبنان تھا جہاں انہوں نے لبنانی وزیرِ اعظم فواد سائینورا اور نو منتخب صدر مشل سُلیمان سے ملاقات کی تھی۔


جرمن وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم ایہود اولمرٹ اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان مذاکرات کے دور کا آغاز ہوا۔ اس ملاقات کا مقصد خطے میں امن قائم کرنے کے لئے باہمی کوششیں تھا۔ اس ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم نے فلسطینی صدر پر سرائیل کے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔ اولمرٹ نےفلسطینی وزیرِ اعظم سلام فایّاد کی جانب سے یورپی یونین اور آرگنائزیشن فار اکنامک کو آپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کو لکھے گئے ایک خط کا حوالہ دیا۔ اس خط میں فلسطینی علاقوں میں جاری غیر قانونی اسرائیلی بستوں کی تعمیر اور امن مذاکرات میں ٹھہراوء کی وجہ سے مغربی ممالک پر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات نہ بڑھانے پر زور دیا گیا تھا۔


اس ملاقات کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقے پر مزید نو سو گھروں کی تعمیر پر شدید تنقید کی۔ اس سے قبل جرمن وزیرِ خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں بھی فلسطینی صدر نے مشرقی یروشلم میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی مذمت کی تھی۔ صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل ان بستیوں کی تعمیر بند نہیں کرتا تو دونوں اطراف کا ایک امن معاہدے پر اتفاق کرنا نا ممکن ہے۔