1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایہوداولمرٹ کا مستعفی ہونے کا اعلان

کرپشن کے الزامات کی وجہ سے اپنے اوپر بڑھتے ہوئے دبائو کے تحت اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود آلمرٹ نے ستمبر میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

default

اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود آلمرٹ

تقریباً ڈھائی سال سے اسرائیلی حکومت کی قیادت سنبھالے اولمرٹ کے اس اعلان سے اسرائیل میں ایک نیا سیاسی بحران شروع ہوگیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر میں اپنی جماعت کدیمہ پارٹی کے صدارتی انتخابات میں حصّہ نہیں لیں گے۔ اپنے اوپر عائد کرپشن کے الزامات کے بارے میں اولمرٹ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔

ایہود اولمرٹ پر یروشلم کے مئیر اور تجارت و صنعت کے وزیر ہونے کے ناطے ایک امریکی تاجر کے ساتھ رشوت ستانی میں ملوّث ہونے کے الزامات عائد ہیں۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
آلمرٹ کے سیاسی مخالفین نے ان کے استعفے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ حزبِ اختلاف نے تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ صورتِ حال کے پیشِ نظر ملک میں نئے انتخابات کروائے جائیں۔ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتی کہ بغیر انتخابات کے ہی کدیمہ پارٹی کے صدارتی انتخابات کے بعد پارٹی کا نیا سربراہ وزیرِ اعظم بن جائے۔

یروشلم سے ڈوئچے ویلے کے نمائندے ہریندر مشرا نے بتایا ہے کہ کدیمہ پارٹی کے صدارتی عہدے کی دوڑ میں پیش پیش اسرائیل کے ٹرانسپورٹ کے وزیر اور با اثر لیڈر شول موفاذ نے اولمرٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اولمرٹ کے استعفے کے اعلان سے قبل امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ان سے بات کی اور مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔

ہریندر مشرا نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عبّاس نے ایہود اولمرٹ کے اعلان کو اسرائیل کااندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل۔ فلسطین امن مزاکرات آگے بڑھائے جائیں گے۔ ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب اسرائیل میں سب کی توجہ اندرونی سیاست پر مرکوز ہے فلسطین کے ساتھ امن مزاکرات کا سلسلہ پسِ پشت جا سکتا ہے۔

DW.COM