1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایگزیکٹ کمپنی کے چیف ایگزیکیٹیو شعیب شیخ کی ضمانت منظور

سندھ ہائی کورٹ نے آج پیر کے روز ایگزیکٹ کمپنی کے سربراہ شعیب شیخ اور دیگر چودہ کو جعلی ڈگری کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق جسٹس جاوید کلہورو نے پانچ، پانچ لاکھ روپے کے عوض ان کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ یہ تمام افراد جعلی ڈگری کیس میں گزشتہ گیارہ ماہ سے جیل میں تھے۔

ایگزیکٹ کمپنی کے وکیل شوکت حیات نے سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے اور استغاثہ اس کیس کے دوران تاخیری حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ شعیب شیخ کے وکیل نے کہا کہ 15 ماہ سے اب تک ملزمان پر جرم ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ایگزیکٹ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ پاکستان کے سینیئر صحافی اویس توحید نے فیس بُک پر لکھا، ’’امید ہے کہ عدالت کے اس فیصلے کے بعد بول کے صحافیوں کو کوئی ریلیف ملے گا۔‘‘

واضح رہے کہ ایگزیکٹ نے ’بول‘ کے نام سے ایک نیا ٹی وی نیوز چینل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے لیے پاکستان کے چوٹی کے صحافیوں اور اینکرز کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ تاہم ایگزیکٹ کے جعلی ڈگری اسکینڈل کے بعد بہت سے صحافیوں نے اس چینل کو چھوڑ دیا تھا۔

گزشتہ برس پاکستان میں تفتیشی حکام نے مبینہ طور پر جعلی ڈگریاں فروخت کرنے کے الزام میں ایگزیکٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شعیب احمد شیخ کو گرفتار کر لیا تھا۔ اسی دوران کراچی میں اس کمپنی کے ہیڈکوارٹرز پرچھاپے بھی مارے گئے تھے۔ اس وقت کی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان چھاپوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں جعلی ڈگریاں بھی ملیں جن میں مختلف کوائف کی جگہ خالی تھی۔

DW.COM