1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ایک یونانی حراستی مرکز میں قید پاکستانی تارکین وطن کی صورت حال

یونانی شہر کورنتھوس میں ایک حراستی مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جہاں غیر قانونی طور پر یونان آنے والے تارکین وطن کو ان کی ملک بدری سے قبل انتظامی حراست رکھا جاتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:32

یونانی حراستی مراکز میں قید پاکستانیوں کی صورت حال

کورنتھوس کے اس حراستی مرکز میں موجود پاکستانی شہریوں نے دوران قید اپنی صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے ڈی ڈبلیو سے رابطہ بھی کیا۔
اسی کیمپ میں موجود ایک پاکستانی تارک وطن عامر بٹ کے مطابق اس یونانی حراستی مرکز میں کم از کم پانچ سو سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو قید میں رکھا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے ہے۔ اس بات کی تصدیق کورنتھوس میں موجود عزیر نامی ایک اور پاکستانی تارک وطن نے بھی کی۔

یورپی پارلیمان کے ارکان پناہ کے مشترکہ قوانین بنانے پر متفق

اٹلی پہنچنے کی کوشش میں پندرہ ہزار تارکین وطن ہلاک ہوئے
عامر بٹ کے مطابق وہ رواں برس مئی سے اس حراستی مرکز میں قید ہے۔ بٹ نے ڈی ڈبلیو کو کیمپ کی صورت حال سے متعلق متعدد تصاویر اور ویڈیو بھی بھیجی ہیں جن میں وہاں موجود پاکستانی تارکین وطن حراستی مرکز میں رہائش، خوراک اور صحت کی ناکافی سہولیات کی شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک تارک وطن کا کہنا تھا، ’’یونان آنے والے ہم جیسے تارکین وطن اپنے خاندان کی مدد کرنے کے لیے محنت مزدوری کی خاطر ان راستوں پر نکلتے ہیں۔ ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم یہاں غیر قانونی طور پر آئے ہیں۔ لیکن اس جرم کی ہمیں بڑی قیمت چکانا پڑ رہی ہے اور پاکستانی تارکین وطن کو یہاں کئی مہینوں تک قید رکھا جاتا ہے۔‘‘
اسی حراستی مرکز میں قید غیر قانونی طور پر یونان آنے والے ایک اور پاکستانی تارک وطن کا دعویٰ تھا کہ کیمپ کے حکام ان کی اپیلوں اور بھوک ہڑتال کے باجود انہیں بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کرتے۔

یونان میں پاکستانی تارکین وطن سے متعلق اعداد و شمار


یونانی اسائلم سروس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سن 2013 کے آغاز سے لے کر اس برس اگست کے اختتام تک یونان میں حکام کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرانے والوں کی مجموعی تعداد قریب ایک لاکھ سولہ ہزار بنتی ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے قریب پندرہ ہزار تارکین وطن نے یونان میں پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ پاکستانی درخواست گزاروں کی تعداد شامی باشندوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس برس کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران دس ہزار شامی، چھ ہزار پاکستانی اور پانچ ہزار افغان شہریوں نے یونان میں پناہ کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
دیگر یورپی ممالک کی طرح یونان میں بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو سیاسی پناہ دیے جانے کی شرح انتہائی کم ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران یونان میں پاکستانی شہریوں کو پناہ دیے جانے کی شرح محض 2.2 فیصد بنتی ہے۔ اس کے برعکس تقریبا سبھی شامی مہاجرین اور قریب پینسٹھ فیصد افغان تارکین وطن کو یونان میں پناہ دی گئی۔
ابتدائی فیصلوں کے خلاف اپیلیں کرنے والوں میں بھی پاکستانی تارکین وطن سر فہرست ہیں اور گزشتہ تین برسوں کے دوران چھ ہزار آٹھ سو پاکستانی شہریوں نے یونان میں پناہ نہ دیے جانے کے ابتدائی فیصلوں کے خلاف حکام کو اپنی اپیلیں جمع کرائیں۔
یہ ویڈیو کورنتھوس حراستی مرکز میں موجود پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے بھیجی گئی ہے۔ ڈی ڈبلیو اس مواد کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ 

جرمنی میں پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں کتنا وقت لگتا ہے؟

جرمنی سے مہاجرین کو ملک بدر کر کے یونان بھیجا جائے گا، یونان

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

DW.COM

Audios and videos on the topic