1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں دو شادیاں، انمول محبت کی لازوال کہانی

پاکستان میں آئے دن ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ جو مقامی ذرائع ابلاغ کی تمام تر توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ ایک نوجوان کا ایک ہی دن میں دو شادیاں کرنے کا فیصلہ مرکز ذرائع ابلاغ بنا ہوا ہے۔

default

پاکستان میں کبھی کسی طالب علم کوکم عمری میں شادی کرنے پر اسکول سے نکال دیا جاتا ہے، تو کبھی صوبہ خیبر پختونخوا میں ملک اقبال نامی شخص کی شادی کی تقریب پر چھاپہ پڑتا ہے اور دلہن کی جگہ سنگیتا نامی ایک خواجہ سرا کے برآمد ہونے کی خبر تمام تر توجہ حاصل کر لیتی ہے۔ شادی کے دو واقعوں کا آج کل بہت چرچا ہو رہا ہے اور یہ دونوں شادیاں ایک ہی شخص کرنا چاہتا ہے۔ ملتان کے ایک 23 سالہ نوجوان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک ہی دن میں دو شادیا ں کرے گا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہی دن میں کیوں؟

جی ہاں ایک شادی وہ اپنی پسند سے جبکہ دوسری شادی وہ ماں باپ کی مرضی سے کرے گا۔ بظاہر تو یہ ایک ناول کی کہانی لگتی ہے لیکن یہ ہے حقیقت۔ اظہر حیدری کی بچپن میں حمیرا قاسم نامی ایک لڑکی سے منگنی ہوگئی تھی۔ یہ منگنی والدین کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لڑکپن سے جوانی کے سفر کے دوران اظہر کا دل 21 سالہ رومانہ اسلم کی زلفون کا اسیر ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا کہ، جہاں اظہر کو یا تو والدین کی خواہش کا احترام کرنا تھا یا پھر اپنی محبت کی قربانی دینی تھی۔ دونوں کام مشکل تھے۔ لیکن اظہر اتنا نرم دل ہے کہ وہ کسی کو دکھ بھی نہیں دینا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے اس نے اس مسئلےکا وہ حل نکالا ، جو اکثر لوگ پہلی شادی کہ چند سالوں بعد نکالتے ہیں، یعنی دوسری شادی۔ لیکن یہ دونوں شادیاں ایک یہ دن اور ایک ہی وقت میں۔

اظہرحیدری نے بتایا کہ اس نے اس حل کے بارے میں اپنی ہونے والی دونوں بیویوں کو بتایا ہے اور دونوں نے اس کے اس منصوبے کی حامی بھر لی۔ اظہرکے بقول دونوں لڑکیوں نے بخوشی اس حل کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی گھر میں ’بہنوں کی طرح‘ رہیں گی۔ اظہر حیدری نے اپنے فیصلے سے حمیرا کی صورت میں والدین کی خوشنودی بھی حاصل کرلی اور رومانہ کو اپنا کر وہ اپنی محبت بھی حاصل کر لے گا۔

اب دیکھتے ہیں کہ انمول محبت کی اس لازوال کہانی پر ڈرامہ اور فلم کب تیار ہوتی ہے اور اس کے علاوہ مزید کتنے نوجوان اظہر کی تقلید کرتے ہوئے اپنے مسائل کا حل یوں نکلتے ہیں۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM