1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ایک گیتا‘ پانچ خاندان دعویدار

قوت گویائی سے محروم گیتا کے معاملے میں بھارت سے آنے وکیل نے پاکستانی عدالت کو بتایا کہ 5 گھرانے گیتا کو اپنے خاندان کا فرد قرار دے رہے ہیں اور تصدیق کے لیے گیتا کے خون کے نمونے درکار ہیں۔

سات برس کی عمر میں گھر والوں کے ہمراہ پاکستان آنے والی بچی واہگہ بارڈر اسٹیشن پر اپنے پیاروں سے بچھڑ گئی تھی اور پنجاب پولیس نے سولہ برس قبل اسے ایدھی فاؤنڈیشن کے سپرد کیا تھا۔ کراچی منتقل کیے جانے کے بعد عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے ہی بچی کا نام گیتا رکھا تھا۔

گیتا کا معاملہ اس وقت پاکستانی میڈیا کی زینت بنا، جب بھارتی اداکار سلمان کی فلم بجرنگی بھائی جان نے دونوں ممالک میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ گیتا کی کہانی فلم میں دکھائی گئی پاکستانی بچی شاہدہ سے غیر معمولی مماثلت رکھتی ہے لہذٰا گیتا کو پاکستانی میڈیا نے بھی غیر معمولی اہمیت دی۔

پانی پت سے آئے بھارتی وکیل اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مومن ملک نے ڈوچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے قبل کئی بار انڈیا میں پاکستانیوں کے حوالے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کی ہے اور سمجھوتا ایکسپریس کے متاثرین کو معاوضہ دلانے کا معاملہ ہو یا ڈاکٹر پروفیسر کی رہائی اور پاکستان واپسی سب میں انہیں کامیابی ملی ہے۔

Indien Boolywood Spielfilm Bajrangi Bhaijan Poster

گیتا کا معاملہ اس وقت پاکستانی میڈیا کی زینت بنا، جب بھارتی اداکار سلمان کی فلم بجرنگی بھائی جان نے دونوں ممالک میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیئے۔

مومن ملک کہتے ہیں کہ انہوں نے گیتا کے حوالے سے 2012 ء میں دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تو 5 خاندانوں نے اسے اپنے گھرانے کا فرد بتایا اور ہائی کورٹ نے ان تمام خاندانوں کو نوٹسز بھی جاری کئے اور ان کی نقول موجود ہیں۔ تاہم جب مومن ملک کراچی آئے اور گیتا سے ملاقات کرنی چاہی تاکہ اس کے خون کے نمونے حاصل کر کے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جاسکے تو ایدھی فاؤنڈیشن نے ملاقات کرانے سے انکار کردیا لہٰذا مجبوراً عدالت کا درواز کھٹھٹانا پڑا۔

درخواست دائر کرنے کے لیے پاکستانی عظیم خواجہ ایڈوکیٹ کی مدد لی اور سماعت کے دوران گیتا نے گویائی اور سماعت سے محروم افراد کے ماہر کی مدد سے اپنا بیان بھی قلم بند کرایا۔ بیان میں اس نے بتایا کہ اس کے 7 بھائی اور 4 بہنیں ہیں اور وہ لاہور میں اپنے گھر والوں سے بچھڑ گئی تھی۔ مومن ملک کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ یہ درخواست دائرہ سماعت سے باہر ہے۔ یہ معاملہ سفارتی سطح پر حل کیا جانا چا ہیے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے نگران فیصل ایدھی کہتے ہیں کہ جس علاقے کی گیتا نشاندہی کرتی ہے وہ جھاڑکھنڈ اور تلنگانا ہے مگر چار برس سے گیتا کے اہل خانہ کو تلاش کررہے ہیں تاحال کامیابی نہیں ہو سکی۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے معروف قانون دان ضیا اعوان کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے۔ جن خاندانوں نے گیتا کا سرپرست ہونے کا دعوٰی کیا ہے ان کے خون کے نمونے بھی پاکستان آ سکتے ہیں اور ڈی این اے پاکستان میں باآسانی ہوسکتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے فرد کی بجائے اداروں یا حکومتوں کو اقدام کرنا ہوگا تاکہ گیتا کی اس کے اصل سرپرستوں تک واپسی یقینی بنائی جا سکے۔ ضیا اعوان کے بقول بدقسمتی سے دونوں ممالک کے گشیدہ تعلقات کے باعث دونوں جانب سے اس معاملے میں سفارتی سطح پر مطلوبہ دلچسپی اور سرگرمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔