1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک کھرب کی لاگت سے’’پاکستان ایئر ویز‘‘ کا قیام اور تحفظات

حکومت پاکستان کی جانب سے ایک کھرب روپے کی لاگت سے نئی قومی ایئرلائن ’’پاکستان ایئر ویز‘‘ کے قیام پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

مالی بحران سے دوچار پہلی قومی ایئرلائن پاکستان انٹر نیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے پاکستان ایئرویز کے نام سے ایک ذیلی ایئرلائن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پاکستان میں کمپنیوں کے اندراج کے ادارے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ایک ترجمان نے پی آئی اے کے ترجمان کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایئر ویز کسی ذیلی کمپنی کے طور پر نہیں بلکہ کمپنیز آرڈیننس انیس سو چوراسی کے تحت ایک الگ کمپنی کے طور پر درج کرائی گئی ہے۔

اس صورتحال نے نئی کمپنی کے قیام کے حوالے سے ابہام پیدا کر دیا ہے۔ ڈی ڈبلیو کی طرف سے رابطہ کرنے پر پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے اس بارے میں کسی تبصرے سے انکار کر دیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے ایکٹ انیس سو چھپن میں ترمیم کیے بغیر اس کی کوئی ذیلی کمپنی نہیں بنائی جاسکتی۔

قانونی ماہر ذوالفقار بھٹہ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’پی آئی اے ایکٹ میں ترمیم کیے بغیر نہ تو کوئی ذیلی کمپنی بن سکتی ہے اور نہ ہی پی آئی اے کی نجکاری کی جاسکتی ہے۔ اسی لئے تو حکومت نے اس کا ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور کرانے کے بعد سینٹ کو بھجوایا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بظاہر حکومت اپنے اس قدام کے ذریعے گزشتہ دنوں پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ملازمین کے احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال کی پیش بندی کرنا ہے۔

اسی دوران حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اس نئی ایئر لائن کے قیام کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پیر کی شام قومی اسمبلی میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرایا ہے۔ اس توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’نئی سرکاری ایئرلائن کا قیام بڑی تشویش کا سبب ہے۔ اس بارے میں پارلیمنٹ اور عوام کو جان بوجھ کر مکمل اندھیرے میں رکھا گیا ہے جو کہ ایک قابل مذمت اقدام ہے۔‘‘

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے پی آئی اے ایکٹ میں ترمیم کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سینٹ میں جہاں حکمران مسلم لیگ ن کے اکثریت نہیں وہاں پر اس بل کی مخالفت کریں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ نئی ایئرلائن سروس کا مقصد پی آئی اے کے مالی نقصانات پر قابو پانا اور سروس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر کا کہنا ہے کہ بہت سے دیگر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی حکومت کی نااہلی اور بد دیانتی عیاں ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’حکومت قومی ایئر لائن کو تباہ کر دیا ہے اور اب بھی جان بوجھ کر ابہام پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ کسی طرح اس ادارے کو بھی کوڑیوں کے بدلے اپنے من پسند افراد کے حوالے کیا جائے۔‘‘

وفاقی حکومت نےعالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ کی گئی مالی اصلاحات کے وعدے کے مطابق اس ماہ کے آغاز پر پی آئی اے کی نجکاری کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد حزب اختلاف کی جانب سے حکومتی اقدام کی شدید مخالفت کی گئی تھی جبکہ فروری کے آغاز میں ادارے کے ملازمین کی جانب سے فلائٹ آپریشن معطل کر دیا گیا تھا، جس کے باعث نہ صرف دنیا بھر میں ہزاروں مسافروں کو مشکلات پیش آئیں بلکہ ادارے کو اربوں روپے کا نقصان بھی ہوا تھا۔

ملازمین کی جانب سے پیش کیا گیا چار نکاتی ایجنڈا حکومت کی طرف سے مسترد ہونے پر احتجاج بھی کیا گیا تھا، احتجاج کرنے والے ملازمین کی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی پرائیویٹائزیشن کی مخالفت کی تھی۔ اس دوران نجکاری کے خلاف احتجاج کے دوران پی آئی کے دو ملازمین ہلاک بھی ہوگئے تھے۔

ملازمین نے نو فروری کو احتجاج ختم کیا تھا، اس وقت ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایک مثبت پیغام کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے اور تمام ملازمین بھر پور انداز سے اب دوبارہ کام شروع کریں گے جبکہ پی آئی اے کا فلائیٹ آپریشن متاثر نہیں کیا جائے گا۔