1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

ایک کامیاب مثال قائم کرنا چاہتی ہوں، مراکشی خاتون سیاستدان

مراکش سے تعلق رکھنے والی نبیلہ منیب اپنے ملک میں تبدیلی چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خواتین ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کریں۔

مراکش سے تعلق رکھنے والی چھپن سالہ نبیلہ منیب کا مقصد یہ ہے کہ خواتین ملکی سیاست میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ انسانوں کے افرازی نظام (داخلی غدودی نظام) سے متعلق تحقیق کی پروفیسر نبیلہ عرب دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ وہ ملکی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

عرب اسپرنگ خواتین کی خودمختاری میں ناکام رہی
تبدیلی کے لیے فعال سعودی خاتون کارکن

حوصلہ مند  شامی خاتون حائلہ کلاوی تبدیلی کی علامت

نبیلہ ایک ایسے سفارت کار کی بیٹی ہیں، جنہوں نے نبیلہ کی سیاست میں دلچسپی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نبیلہ اس وقت ایک پارٹی کی سربراہ بھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ کراٹے کی ماہر ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کام پرتوجہ مرکوز کرنے میں مدد بھی ملی۔

وہ خواتین کو ملکی سیاست میں لانے کی خاطر ایک مہم بھی چلا رہی ہیں۔ اس مقصد کی خاطر وہ ایک منی بس میں ملک بھر میں دورے کرتی ہیں اور اپنی پارٹی کے منشور کو عام کرتے ہوئے اپنے ممبران کی تعداد بڑھانے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔

نبیلہ کے بقول اس مہم سے انہیں ملا جلا ردعمل ملا ہے تاہم وہ پرعزم ہیں کہ ان کی پارٹی پارلیمان میں ایک بڑی جماعت بن کر ابھرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

عرب دنیا میں پارلیمان تک پہنچنے والی خواتین کی تعداد ارکان پارلیمان کی مجموعی تعداد کا صرف سترہ اعشاریہ چھ فیصد بنتی ہے، جو دنیا بھر میں اس تناظر میں دوسرا سب سے کم تناسب ہے۔ نبیلہ کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہر شعبے میں زیادہ اور اضافی محنت کی ضرورت ہے۔

Marokko Proteste in Al-Hoceima (picture-alliance/dpa/A. Senna)

عرب اسپرنگ کے اثرات مراکش میں بھی دیکھے گئے تھے

 

انہوں نے کہا، ’’میں ایک مثال قائم کرنا چاہتی ہوں، ایک تاریخی مثال، ایک کامیاب مثال۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ کوشش اور محنت سے مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔

پانچ برس قبل آنے والی 'عرب اسپرنگ‘ سے تبدیلی کی ایک نئی امید کی توقع لگائی گئی تھی۔ بالخصوص عرب ممالک میں خواتین کی ترقی اور بہبود کے حوالے سے لگائے جانے والے اندازے مکمل طور پر درست ثابت نہ ہوئے لیکن پھر بھی کچھ خواتین اپنے شعبوں میں نمایاں ضرور ہوئیں۔ اس تناظر میں نبیلہ کا کہنا ہے کہ لگن ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔

DW.COM