1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ شدت پسند ہلاک

صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک دہشت گردانہ کارروائی کے دوران پولیس اہلکار سمیت پانچ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں ایک پولیس چوکی پر کم از کم 30 جنگجوؤں کے حملہ میں ہوئیں۔

default

پاکستانی حکام کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب پشاور کے مضافاتی علاقہ باڑہ میں سربند پولیس چوکی پر شدت پسندوں نے حملہ کیا۔ جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند مارے گئے۔

مقامی پولیس حکام کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے چوکی پر فجر سے پہلے اس وقت حملہ کیا، جب پولیس کے جوان وہاں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے جبکہ باقی عسکریت پسند فرار ہونےمیں کامیاب ہوگئے۔

ایک سینئر پولیس افسر محمد اعجاز کا خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کم از کم 30 عسکریت پسندوں نے رات گئے دو مرتبہ حملہ کیا۔ ان کے مطابق عسکریت پسندوں کے اس حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

NO FLASH Taliban in Pakistan

محمد اعجاز نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے پانچ عسکریت پسندوں کی لاشیں ان کے قبضے میں ہیں

محمد اعجاز نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے پانچ عسکریت پسندوں کی لاشیں ان کے قبضے میں ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی شدت پسندوں کی جانب سے متعدد بار اسی چوکی کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق شدت پسندوں کا اسلحہ قبضے میں لے کر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ سفیر اللہ خان نے بتایا ہے کہ جمرود میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین دوسرے زخمی ہوگئے۔

خیبر ایجنسی پاکستان کے اُن سات قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے، جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ ان نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں سرکاری دستے طالبان باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور عسکریت پسند بھی تقریباً ہر روز سکیورٹی دستوں، پولیس اور سرکاری اہلکاروں پر خونریز حملے کرتے رہتے ہیں۔

سن 2007 میں ان علاقوں میں پاکستانی فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس کے بعد سے لے کر اب تک شدت پسندوں کے جوابی حملوں میں 4500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM