1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک ٹوئیٹ پر ’مس ترکی‘ تاج سے محروم، اب سزائے قید کا خطرہ بھی

ترکی میں معنقد کیے گئے مقابلہ حسن میں جیتنے کے باوجود تاج سے محروم کر دی جانے والی اٹھارہ سالہ ترک حسینہ اتیر ایسن ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترک حکام کی جانب سے اتیر ایسن کو ’ معاشرے کے ایک طبقے کو ان کے رتبے، نسل، مذہب، فقہ، صنفی یا علاقائی اختلافات کی بنیاد پر عوامی سطح پر بدنام کرنے‘ کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس جرم میں اسے ایک سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ استبنول کی ایک عدالت اگلے پندرہ دنوں میں اس بات کا فیصلہ سنائے گی کہ آیا اتیر ایسن پر باضابطہ طور فرد جرم عائد کی جائے یا نہیں۔

ایردوآن ترکی کو ’فاشزم‘ کی جانب لے جا رہے ہیں، یوچیل

اٹھارہ سالہ اتیر اسین نے ملکی مقابلہ حسن میں حصہ لیا اور اسے ملک کی 2017ء کی ملکہ حسن قرار دیا گیا تھا۔ مگر مقابلے کا اہتمام کرانے والی کمیٹی کو بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس نے اپنی ایک سابقہ ’ٹویٹ‘ میں 15 جولائی 2016ء کو ترکی میں فوج کے ایک گروپ کی صدر طیب ایردوآن کا تختہ الٹنے کی سازش کی حمایت کی تھی۔

ترک حکام نے اتیر ایسن کی ٹویٹ کو ’ناکام انقلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے شہریوں کے خون سے غداری اور ان کی قربانیوں کی توہین‘ قرار دیا ہے۔ اس متنازع ٹویٹ نے نہ صرف اس کا مقامی سطح پر ملکہ حسن کا لقب چھین لیا بلکہ عالمی ملکہ حسن کے مقابلے میں حصہ لینے سے بھی محروم کردیا تھا۔

اتیر ایسن  نے 2016ء کے وسط میں صدر ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا مذاق اڑایا تھا۔ ترکی میں ملکہ حسن کا مقابلہ کرانے والی کمیٹی نے متنازع ٹویٹ کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد کئی گھنٹے تک اتیر ایسن سے تفتیش کی اور پھر ان سے ٹائٹل واپس لے لیا۔

مقابلہ حسن منعقد کرانے والی کمیٹی کے ڈائریکٹر صاندقجی اولُو کا کہنا تھا کہ ’ہم دنیا بھر میں ترکی کی ساکھ کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں، ایسے پیغامات، جن سے ترکی کی عالمی سطح پر شہرت کو نقصان پہنچے کسی صورت میں قابل قبول نہیں‘۔

اتیر ایسن  نے ٹویٹ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایسا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیا اور اس ٹوئیٹ کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد حاصل کرنا نہیں تھا۔

ترکی میں اس سے قبل بھی سن 2015 میں ایک سابقہ ملکہ حسن کے خلاف تحقیات کرتے ہوئے انہیں چودہ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سابق حسینہ پر الزام تھا کہ اس نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ملکی صدر طیب ایردوآن کی توہین کی تھی۔ اس سزا کو بعد میں اس شرط کے ساتھ معطل کر دیا گیا کہ وہ آئندہ پانچ برسوں تک ایسی کسی بھی حرکت کی مرتکب نہیں ہوں گی۔

ترک عدالت کا انسانی حقوق کے آٹھ کارکنوں کی رہائی کا حکم

پاکستان سے ملک بدر ہونے والا ترک استاد ترکی میں گرفتار

DW.COM