1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ایک مہینے میں دو لاکھ بیس ہزار مہاجرین، نیا ریکارڈ

اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں دو لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد مہاجرین بحیرہ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہوئے جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ یہ تعداد گزشتہ پورے سال میں یورپ آنے والے مہاجرین کے برابر ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کی گئی ایک گفتگو میں بتایا ہے کہ صرف اکتوبر کے ایک مہینے کے دوران آنے والے مہاجرین کی تعداد گزشتہ سال کی کل تعداد کے برابر ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ان مہاجرین میں سے دو لاکھ دس ہزار سے زائد پناہ گزین یونان پہنچے جب کہ آٹھ ہزار مہاجرین دوسرے ممالک میں داخل ہوئے۔ رواں برس اب تک یورپ پہنچنے والے کل مہاجرین کی تعداد سات لاکھ چوالیس ہزار ہو چکی ہے۔

اکتوبر کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی سردی اور مشکل اور خطرناک سمندری سفر کے باوجود یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ شام اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ پناہ گزینوں کو خدشہ ہے کہ یورپ پہنچنے کے راستے تیزی سے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے کشتیوں کے ذریعے بحیرہ ایجئین کو عبور کرتے ہوئے یونان پہنچ رہے ہیں۔

رواں سال کے آغاز سے اب تک چھ لاکھ سے زائد پناہ گزین یونان میں داخل ہوئے۔ ان میں سے چورانوے فیصد مہاجرین کا تعلق دس ممالک سے ہے۔ ان ممالک میں شام، عراق، افغانستان اور پاکستان سب سے نمایاں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق سمندری راستے سے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں اس سال یکم جنوری سے لے کر اکتوبر کے اختتام تک 3440 افراد سمندر میں ڈوب کر ہلاک یا گم ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ترکی کے ساحل پر ڈوبنے والے شامی بچے ایلان کردی کی موت کے بعد سے قریب دو ماہ کے عرصے میں ایسے ہی مزید کم از کم 77 دیگر مہاجر بچے بھی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

اتوار کے روز ڈوبنے والی مہاجرین کی دو کشتیوں میں ہلاک ہونے والے افراد ان اعداد و شمار کے علاوہ ہیں۔ گزشتہ روز کے حادثوں میں چھ پچوں سمیت کم از کم پندرہ مزید تارکین وطن ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے زیادہ تر مہاجرین اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ ترکی سے یونان تک پہنچنے کے سمندری راستے کی نسبت بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی کا سفر زیادہ طویل اور خطرناک ہے۔ ہلاکتوں کی شرح میں اضافے کے باعث اس راستے سے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جب کہ ترکی سے یونان پہنچنے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق صرف گزشتہ مہینے کے دوران ہونے والے کشتیوں کے ایسے حادثات میں اسی سے زائد تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

DW.COM