1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک ملین ڈالر کا انعام، فلسطینی پرائمری اسکول ٹیچر کے نام

ایک مہاجر کیمپ میں پلنے والی ایک فلسطینی پرائمری اسکول ٹیچر نے، جو اپنے طلبہ کو عدم تشدد کی تعلیم دیتی ہے، دنیا بھر سے آٹھ ہزار دیگر امیدواروں کو شکست دیتے ہوئے بہترین اُستاد کا ایک ملین ڈالر کا انعام حاصل کر لیا ہے۔

VAE Hanan al-Hroub Preisverleihung Global Teacher Prize in Dubai

’’مجھے بے پناہ خوشی ہوئی ہے اور مجھے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا ہے‘‘

اس فلسطینی اُستانی کا نام حنان الحروب ہے، جو مغربی کنارے میں راملہ کے نواحی شہر البیرہ میں ایک پرائمری اسکول میں پڑھاتی ہے۔ اُنہیں یہ انعام متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں منعقد ہونے والے ’گلوبل ٹیچر پرائز‘ کی دوسری تقریب میں دیا گیا۔

حنان الحروب نے یہ انعام دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے ہاتھوں سے وصول کیا۔ اس سے پہلے اس انعام کے لیے حنان الحروب کے نام کا اعلان پاپائے روم پوپ فرانسس نے ایک ویڈیو پیغام میں کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر اُن بچوں کے لیے تعلیم اور اساتذہ کیا اہمیت رکھتے ہیں، جو جنگ کے حالات میں پرورش پاتے ہیں۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے باتیں کرتے ہوئے الحروب نے کہا:’’مجھے بے پناہ خوشی ہوئی ہے اور مجھے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا ہے کہ پوپ نے میرا نام لیا۔ ایک عرب اور فلسطینی ٹیچر کے لیے آج کے روز یوں پوری دنیا سے مخاطب ہونا اور درس و تدریس کے شعبے میں اتنے بلند مقام پر پہنچنا دنیا بھر کے اساتذہ کے لیے ایک مثال ہے۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس سے باتیں کرتے ہوئے الحروب نے کہا کہ وہ ایک ملین ڈالر کی اس رقم سے وظائف شروع کریں گے، جو عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایسے بچوں کو دیے جائیں گے، جو آگے چل کر درس و تدریس کا شعبہ اپنائیں گے۔

حنان الحروب کو یہ انعام ایک ایسے وقت پر دیا گیا ہے، جب اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ سے عام فلسطینی شہریوں کی جانب سے فائرنگ کے ساتھ ساتھ چاقوؤں اور گاڑیوں سے بھی کیے گئے حملوں میں اب تک اٹھائیس اسرائیلی اور دو امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اس عرصے کے دوران اسرائیلی فورسز نے کم از کم 179 فلسطینیوں کو ہلاک کیا، جن میں زیادہ تر اسرائیلی فورسز کے بقول حملہ آور تھے۔

VAE Hanan al-Hroub Preisverleihung Global Teacher Prize in Dubai

یہ انعام وارکی فاؤنڈیشن کی جانب سے دیا جاتا ہے، بھارتی شہری سنی وارکی کی قائم کردہ GEMS ایجوکیشن کمپنی دنیا بھر میں 130 سے زیادہ اسکول چلا رہی ہے

جس لمحے حنان الحروب نے یہ انعام وصول کیا، ہال میں موجود فلسطینیوں نے ملک کا پرچم لہرایا۔ کئی دیگر نے ہوا میں مکے لہراتے ہوئے نعرے لگائے کہ ’اے فلسطین، ہم تیرے لیے اپنی روحوں اور اپنے خون کی قربانی دیں گے۔‘‘ اپنے خطاب میں الحروب نے تشدد کے خاتمے کی بات کی اور بتایا کہ مکالمت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا:’’اب ایک فلسطینی ٹیچر پوری دنیا سے مخاطب ہو سکتی ہے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہم تبدیلی لا سکتے ہیں اور قیام امن کے لیے ایک محفوظ تعلیم کو ممکن بنا سکتے ہیں۔‘‘

اس انعام کے لیے دنیا بھر سے جو آٹھ ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، اُن میں سے آخر میں دَس امیدواروں کے نام شارٹ لسٹ کیے گئے تھے۔ الحروب سمیت تمام دس امیدواروں نے اس تقریب میں حصہ لیا۔ دیگر نو امیدواروں کا تعلق آسٹریلیا، فن لینڈ، بھارت، جاپان، کینیا، پاکستان اور برطانیہ سے تھا۔ دو امیدواروں کا تعلق ریاست ہائے متحدہ امریکا سے تھا۔ الحروب کے خطاب کے دوران یہ تمام امیدوار بھی اسٹیج پر موجود تھے۔

گلوبل ٹیچر پرائز کا اجراء دو سال قبل ہوا اور اس کا مقصد ایسے اساتذہ کی کارکردگی کا اعتراف کرنا ہے، جنہوں نے درس و تدریس کے شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہوں، پڑھائی کے لیے اختراعی طریقے متعارف کروائے ہوں اور جو دیگر افراد کو بھی اس شعبے سے وابستہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوں۔

یہ انعام وارکی فاؤنڈیشن کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ اس کے بانی دبئی میں قیام پذیر سنی وارکی ہیں، جن کا تعلق بنیادی طور پر بھارت سے ہے لیکن جن کی قائم کردہ GEMS ایجوکیشن کمپنی دنیا بھر میں 130 سے زیادہ اسکول چلا رہی ہے۔

West Bank Lehrerin Hanan al-Hroub

الحروب نے ’ہم کھیلیں اور سیکھیں‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی تحریر کی، جس میں کھیل کُود، اعتبار، احترام، دیانت داری اور خواندگی جیسی باتوں کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے

الحروب کا کہنا ہے کہ اُن کی پرورش بیت لحم میں ایک مہاجر کیمپ میں ہوئی، جہاں پُر تشدد واقعات ایک معمول تھے۔ اُن کے حالاتِ زندگی میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے درس و تدریس کے شعبے کا انتخاب تب کیا، جب اُن کے بچوں نے اسکول سے واپس آتے ہوئے راستے میں فائرنگ کے ایک واقعے کا مشاہدہ کیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس واقعے کے بعد سے اُنہوں نے صدماتی کیفیات کے شکار بچوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا اور اس بارے میں غور کرنا شروع کر دیا کہ کیسے کلاس رومز میں ایسے بچوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔

الحروب نے ’ہم کھیلیں اور سیکھیں‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی تحریر کی، جس میں کھیل کُود، اعتبار، احترام، دیانت داری اور خواندگی جیسی باتوں کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ گزشتہ سال کا انعام امریکی ریاست مین کے ایک گاؤں میں قائم ایک اسکول کی ٹیچر نینسی ایٹویل کو دیا گیا تھا۔