1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک عشرے میں بھارتی آبادی میں اٹھارہ کروڑ کا اضافہ

بھارت میں کی جانے والی مردم شماری کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کی آبادی 181 ملین یا 18 کروڑ سے بھی زائد افراد کے اضافے کے بعد 1.21 بلین تک پہنچ گئی ہے۔

default

بھارت کے شعبہء مردم شماری کے کمشنرکا کہنا ہے کہ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق ملک میں سن 2001 کے بعدسے اب تک 17.64 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ دہائی میں بھارت کی آبادی میں اضافہ تاہم 1990 کی دہائی کے مقابلے میں کم  رہا ہے جو کہ 21.5 فیصد تھا۔

بھارت میں تازہ ترین مردم شماری میں 632.7 ملین مردوں اور 586.5 ملین خواتین کی گنتی کی گئی، جو کہ دنیا کی مجموعی آبادی کا 17 فیصد بنتا ہے اور امریکہ، انڈونیشیا، برازیل، پاکستان اور بنگلہ دیش کی قومی آبادیوں کے مجموعے سے بھی زیادہ ہے۔

Auftakt der Volkszählung in Indien

آبادی میں اضافے کی وجہ سے بھارت کی معاشی ترقّی کے اثرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پا رہے، ماہرین

امریکی محکمہء مردم شماری کے مطابق سن 2025 تک بھارت کی آبادی چین سے بھی زیادہ ہو جائے گی، جو کہ اس وقت 1.34 بلین افراد کے ساتھ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔

بھارت کی آبادی میں میں ہر برس 18 ملین افراد کا اضافہ ہوتا ہے جبکہ چین میں یہ تعداد 6.3 ملین بنتی ہے۔ آبادی میں اضافے پر قابو پانے کی کوششیں بھارت میں اتنی مؤثر نہیں ہو رہی ہیں جتنا کہ وہ چین میں ہیں۔

سن 2011 کی اس بھارتی مردم شماری کا ایک اور منفی پہلو بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کو ترجیح دینا ہے۔

مردم شماری کے مثبت پہلوؤں میں ایک ملک میں شرح خواندگی میں اضافہ ہے، جو کہ سن 2001 سے لے کر اب تک 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ اب 74 فیصد ہو گئی ہے۔

بھارت کی یہ مردم شماری 1872ء کے بعد سے اب تک ملک کی پندرہویں مردم شماری تھی۔ اس کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کے عمل میں 25 لاکھ افسران نے حصہ لیا جنہوں نے ملک کے 7742 قصبوں اور شہروں اور چھ لاکھ دیہات میں 240 ملین گھروں میں مردم شماری کی۔ آبادی کو صنف، مذہب، تعلیم اور پیشے کی بنیاد پر بھی تقسیم کیا گیا۔

اس مردم شمار ی کی تکمیل میں بعض علاقوں میں مشکلات بھی پیش آئیں جیسا کہ وہ علاقے جہاں ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے شورش جاری ہے۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM