1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک سو چالیس حروف میں تاریخ، فلسفے اور موسیقی کی تعلیم

معروف جرمن مصنف اولیور کُوہن نے اپنی نئی کتاب میں قارئین سے وعدہ کیا ہے کہ آج کل کی جدید اور تیز رفتار زندگی میں کوئی انسان جو کچھ بھی سیکھنا چاہے، وہ ٹوئٹر پر صرف 140 حروف میں سیکھا جا سکتا ہے۔

اولیور کُوہن کی 336 صفحات پر مشتمل تازہ ترین کتاب کا عنوان ہے: ’ہر وہ بات جو آپ جاننا چاہیں، محض 140 کریکٹرز میں‘۔ اس موضوع پر جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے ہفتہ اکتیس اکتوبر کے روز اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ایک مصنف کے طور پر اولیور کُوہن نے اپنی نئی تصنیف میں واضح کر دیا ہے کہ کوئی بھی قاری جو کچھ بھی جاننا چاہے، اس کے لیے بہت تھوڑے وقت میں سب کچھ جان لینے کا موقع موجود ہے، اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ اسے درکار تمام معلومات 140 حروف کے چھوٹے چھوٹے پیکجز میں اسے دستیاب ہوں۔

Oliver Kuhn اپنی اس کتاب میں کہتے ہیں ہر قاری کے لیے جامع بنیادی تعلیم، چاہے وہ تاریخ کی ہو، فلسفے، موسیقی یا پھر فن تعمیرات کی، ایسے اسباق کی صورت میں دستیاب ہے کہ ہر سبق کی طوالت سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کی ایک ٹویٹ کے برابر ہوتی ہے۔

اس جرمن مصنف نے، جو ایک معروف صحافی بھی ہیں، اپنے موقف کی وضاحت کے لیے کئی مثالیں بھی دی ہیں۔ مثلاﹰ اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ فنون لطیفہ میں ’نیو آرٹ‘ یا ’آرٹ نوَوو‘ کسے کہتے ہیں، تو اس کا جواب ہو گا: ’’آرٹ نَووو (1900ء) بہت سے رنگ اور غیر معمولی اشکال۔ آرائشی اشیاء، جیسے پھول، چمکیلے رنگ اور مختلف مادے، جیسے فولاد، شیشہ۔‘‘

اسی طرح بچوں کی کہانیوں کے مشہور کردار پِپی لانگ سٹاکِنگ کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے: ’’پِپی لانگ سٹاکِنگ۔ نو سالہ باغی لڑکی، اکیلے رہائش، جدید مضبوط عورت کی علامت۔ دوست آنیکا اور پیٹر (امیر جوڑا)۔‘‘ ایک ٹویٹ جتنی طویل یہ تحریر دراصل وہ مختصر تعارف ہے، جس کے ساتھ اولیور کُوہن نے ایک اہم ادبی کردار سے چند لمحوں میں واقفیت کو ممکن بنا دیا ہے۔

Pippi Langstrumpf

پِپی لانگ اسٹاکِنگ کا کردار قریب سات عشرے قبل ایسٹرِڈ لِنڈگرَین نے تخلیق کیا تھا

وفاقی صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ کے ’جرمن جرنلزم اسکول‘ کے فارغ التحصیل اولیور کُوہن کی یہ نئی کتاب ایک تجرباتی تخلیق ہے، جس میں ہر روز بدلتی دنیا کی تیز رفتاری اور علم کے حصول کے نئے امکانات کو یکجا کر دیا گیا ہے۔

1972ء میں پیدا ہونے والے اولیور کُوہن اپنے بنائے گئے طنزیہ اسکیچز کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ اب تک کئی کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں سے متعدد مشہور جرمن نیوز میگزین ’اشپیگل‘ کی ’بیسٹ سیلر‘ فہرستوں میں بھی شامل رہی ہیں۔

DW.COM