1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک سال میں پاکستان کو ڈرون طیارے مل جائیں گے، پینٹاگون

امریکہ ایک سال کے اندر اندر پاکستان کو جاسوسی کرنے والے ڈرون طیارے فراہم کردے گا البتہ میزائل داغنے والے ڈرون طیاروں کی فراہمی کا پاکستانی مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

default

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ذرائع کے مطابق اسلام آباد حکومت اس معاملے پر غور کررہی ہے کہ کیا جاسوسی والے ڈرون طیارے اس کی ضروریات کو پوری کرسکیں گے۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس رواں سال کے اوائل میں اعلان کرچکے ہیں کہ شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کے لئے امریکہ 12 ’شیڈو ڈرونز‘ یعنی جاسوسی مقاصد کے لئے بغیر پائلٹ والے طیارے پاکستان کو فراہم کرے گا۔ اس ضمن میں ابھی امریکی ساختہ ’شیڈو ڈرونز‘ اور ’سکین ایگلز‘ طیارے زیر غور ہیں۔

US Drone Predator Flash-Galerie

امریکی ساختہ ڈرون

اسلا م آباد حکومت کا مطالبہ رہا ہے کہ واشنگٹن میزائل داغنے والے ڈرون طیارے فراہم کرے البتہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کسی ملک کو منتقل نہیں کی جائے گی۔ پینٹاگون ذرائع کے مطابق پاکستان کو فراہم کئے جانے والے ڈرون طیاروں کی تعداد کا فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ کس طرز کے طیارے منتخب کئے جاتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق پاکستانی فوج پہلے سے ہی فضائی جاسوسی کے لئے C-130 طیاروں میں بعض تبدیلیاں کرکے ان سے یہ کام لے رہی ہیں۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے ڈرون ٹیکنالوجی اتحادیوں کو فراہم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے اسے امریکی مفاد کے لئے فائدہ مند قرار دیا تھا۔

Nato Angriff Afghanistan

جرمن ساختہ ڈرون

خیال رہے کہ اس ضمن میں Missile Technology Control Regime نامی ایک بین الاقوامی قانون کے تحت بعض پابندیاں عائد ہیں۔ 34 ممالک کے مابین طے پانے والے اس معائدے کے تحت جنگی طیاروں کے برخلاف بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ایسے ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی عائد ہے جس میں انسان موجود نہ ہو مثلاً میزائل وغیرہ۔ امریکی ڈرون حملوں کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اپنا اہم ہتھیار گردانتا ہے اور گزشتہ ہفتے پہلی بار امریکہ کی جانب سے ان حملوں کو باضابطہ طور جائزقرار دیا گیا۔

گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکہ اور پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات کے بعد اسلحے کی فروخت سے متعلق متعدد منصوبے طے پانے کا بھی امکان ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عابد حسین

DW.COM