1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک رات کا بے گھر شہزادہ

برطانوی شہزادے پرنس ولیم نے اپنے آرام دہ بستر کو چھوڑ کر ایک دن بے گھر افراد کی طرح گزاری ۔ اس کا مقصد ان افراد کے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا تھا۔ مخمل کے بستر سے پل کے نیچے تک کی کہانی۔

default

پرنس ولیم اور اس کے ساتھیوں کے لئے یہ تجربہ کافی مشکل رہا۔ یہ تینوں پوری رات صحیح طریقے سے سو نہ سکے۔

آپ کو ایسے کئی قصے، کہانیاں اور فلمیں یاد ہوں گی جن میں کسی عام انسان، فقیر یا مجبورکو ایک دن کی بادشاہت یا حکمرانی دے دی گئی ہو۔ مثلاً، مشہور’نظام سکہ‘ کی کہانی تو شاید آپ کو یاد ہی ہوگی۔ یا پھر اداکار انیل کپور کی فلم ’نایک‘جس میں وہ ایک دن کے لئے ریاست کا وزیر اعلیٰ بنتا ہے!

لیکن کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی بادشاہ یا شہزادے یا کسی حکمران نے ایک عام انسان کی طرح ایک دن گزارا ہو؟ پوری ایک رات بے گھر افراد کے ساتھ بسر کی ہو؟

پندرہ دسمبر2009ء کی رات، لندن میں درجہ حرارت منفی چار سینٹی گریڈ، ایک شہزادہ اپنے دو پرائیوٹ سیکریٹریوں کے ہمراہ اور بلیک فیئرز برج،

شہزادے کا نام ہے ولیم، اس کے ساتھ Jamie Lowther اور Seyi Obakin ۔ یہ برطانوی شہزادہ ولیم ایک سماجی تنظیم کا سربراہ بھی ہے۔ یہ تنظیم بےگھرافراد کے لئے کام کرتی ہے۔ اس سے قبل ولیم کی والدہ لیڈی ڈیانا مرحومہ کے پاس اس تنظیم کی صدارت تھی۔ آخر شہزادے کو اس سرد موسم میں بے گھر افراد کے ساتھ یہ رات گزارنے کا خیال آیا کیسے؟ یہ خیال اس کے ذہن میں ڈالنے والا کوئی اور نہیں اس کا اپنا پرائیوٹ سیکریٹری اوُباکِن تھا۔ اس نے شہزادے کو چیلنج دیا کہ وہ ایک رات اپنے نرم اور آرام دہ بستر سے باہر نکل کر بے گھر افراد کے ساتھ گزار کر دکھائے۔

Großbritannien Prinz William als Soldat

پرنس ولیم کئی ماہ تک افغانستان میں جاری جنگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

شہزادہ تو پھر شہزادہ ہوتا ہے‘ بس چیلنج قبول کرلیا۔ ساتھ ہی ولیم کا خیال تھا کہ بے گھر نوجوانوں کے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانے کا یہ ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ پھر کیا تھا، اس نے اپنا بستر اٹھایا اور لندن کے ایک پل Blackfairs کے نیچے پہنچا۔ سردی سے بچنے کے لئےوہاں پڑےکچھ گتوں کو اپنے سلیپنگ بیگ کے نیچے بچھایا اور سوگیا۔ بے گھرافراد بھی اسی طرح کرتے ہیں۔ شہزادے کے لئے جگہ بہت عقلمندی سے منتخب کی گئی تھی۔ وہ اور اس کے تینوں ساتھی رات بھراچھی طرح سے سو نہ سکے۔ اور سوتے بھی کیسے؟ صبح سویرے شہزادے اور اس کے ساتھوں کو اس وقت ایک حادثہ پیش آتے آتے رہ گیا، جب وہاں سے ایک صفائی کرنے والی گاڑی گزری۔ ڈرائیور کی نظر ان پر نہ پڑ سکی، بہرحال گاڑی بروقت رک گئی اور تینوں محفوظ رہے۔ شب بسری کے بعد ولیم کے سیکریٹری اوُباکِن نے کہا کہ اس کے اور شہزادے، دونوں کے لئے یہ ایک ’’خوف ناک تجربہ‘‘ تھا۔

شہزادے ولیم کی سرپرستی میں کام کرنے والی تنظیم ’چیرٹی سینٹر پوائنٹ‘ نے اپنے سربراہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس اقدام کو بہت سراہا۔ تنظیم نے کہا کہ اس طرح خاص طور پر بے گھر نوجوانوں کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ برطانوی شہزادے ولیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرحومہ والدہ لیڈی ڈیانا کی طرح ہی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ اگلی مرتبہ یہ شہزادہ کیا کچھ کرتا ہے، بس انتظار کیجئے!

رپورٹ:عدنان اسحاق

ادارت:گوہر گیلانی