1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک خونی میزانیہ

گزشتہ برس دنیا بھر میں خود کش حملوں میں اتنی زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 2016ء کے دوران ساڑھے پانچ ہزار سے زائد افراد  زندگی کی بازی ہار گئے۔

اسرائیل کے ادارہ برائے قومی سلامتی کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران 800 حملہ آوروں نے اٹھائیس مختلف ممالک میں چار سو انہتر بم دھماکے کیے، جن میں کل 5650 افراد لقمہ اجل بنے۔ ان میں سے ستر فیصد یعنی تقریباً 268 حملوں میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا تو براہ راست یا بالواسطہ ملوث تھی۔ ان میں سے زیادہ تر حملوں کو نشانہ مشرق وسطیٰ کا خطہ تھا۔ ان میں سے 146 عراق میں، 55 شام میں جب کہ 52 افغانستان میں کیے گئے۔ 2015ء میں  452 خود کش حملوں میں 4330 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آئی این ایس ایس نامی اس ادارے کے مطابق، ’’اسلامک اسٹیٹ کو شام و عراق میں پسپائی کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں ایسا لگتا ہے کہ خود کش حملے  آئی ایس کا ایک مرکزی ہتھیار بن جائیں گے، جسے استعمال کرتے ہوئے یہ تنظیم اپنی طاقت بڑھائے گی اور اپنی ساکھ کو ناقابل شکست بنانے کی کوشش کرے گی۔‘‘ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ خود کش حملے سے صرف عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے نہیں کیے جاتے بلکہ اس کا مقصد اپنے دشمن کو خوف ذدہ کرنا یا دہشت گردی کے خلاف جاری بین الاقوامی کارروائیوں کا بدلہ لینا بھی ہوتا ہے۔

آئی این ایس ایس مزید لکھتا ہے کہ مغربی یورپ بھی گزشتہ برس خود کش حملوں کی زد میں رہا،’’اس رجحان کا اندازہ 2015ء کے آخر میں ہی ہو گیا تھا، جب اُسی برس نومبر میں پیرس میں سلسلہ وار بم حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں کو اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے یورپ کے مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی قرار دیا گیاتھا‘‘۔ اسلامک اسٹیٹ کے بعد سب سے زیادہ خود کش حملے نائجیریا کے انتہا پسند گروپ بوکو حرام نےکیے ۔ بوکو حرام نے ترپن جبکہ افغان طالبان نے انتالیس خود کش حملوں میں ملوث تھے۔ خود کش حملوں میں نمایاں اضافہ ترکی میں دیکھا گیا۔ 2015ء میں ترکی میں صرف پانچ خود کش بمباروں نے دھماکے کیے تھے، جبکہ اس سال ایسے حملوں کی تعداد اکیس رہی۔