1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’ایک تاریخ ساز دن‘ تحفظ ماحول کا پیرس معاہدہ نافذ ہو گیا

ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے گزشتہ برس پیرس میں طے پانے والا تاریخی معاہدہ آج جمعے سے بین الاقوامی قانون بن گیا ہے۔ عالمی حدت کو محدود رکھنے کے سلسلے میں اسے مختلف ممالک کی جانب سے ایک تاریخ ساز اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

ابھی تک 96 ممالک کی جانب سے پیرس معاہدے کی توثیق کی جا چکی ہے اور امید ہے کہ مزید ممالک اگلے ہفتوں اور مہینوں کے دوران اس فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔ جن ممالک کی جانب سے  تحفظ ماحول کے اس معاہدے کو تسلیم کیا جا چکا ہے ہے وہ دنیا میں مجموعی طور پر فضا میں  ضرر رساں گیسوں کے 55 فیصد سے زائد اخراج  کے ذمہ دار ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان اسٹیفان دوجارک کے بقول بان کی مون نے چار نومبر 2016ء کو ایک تاریخی دن قرار دیا ہے، ’’یہ انسانوں اور سیارے دونوں کے لیے تاریخی لمحہ ہے‘‘۔

پیرس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ضروری  تھا کہ کم از کم اتنے ممالک اس کی توثیق کریں جو عالمی سطح پر فضا میں چھوڑی جانے والی کُل ضرر رساں گیسوں کا کم از کم  55 فیصد حصہ خارج کر رہے ہوں۔ اس معاہدے کے تحت تمام ممالک ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی کرتے ہوئے عالمی حدت میں اضافے کو دو ڈگری سینٹی گریڈ کے اندر لانے کی کوشش کریں گے۔

سائنسدانوں اور محققین نے تحفظ ماحول کے اس معاہدے پر 192ممالک کی جانب سے دستخط کیے جانے کو اور آج سے اس کے نافذ العمل ہونے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا،’’اس معاہدے میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے ایک ایسی یقین دہانی کا ذکر کیا گیا ہے، جو قطُبی علاقوں کے برف کے ذخیرے کے پگھلنے، سمندروں کی سطح بلند ہونے اور قابل کاشت زمین کے صحرا میں تبدیلی کے عمل کو روکنے کے لیے کی گئی ہے۔