1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک بہن کو قتل کیا، دوسری کے قتل کی کوشش کی، مدثر شیخ

یورپی ملک بیلجیم کی ایک عدالت میں ملکی تاریخ کا ایسا پہلا مقدمہ شروع ہوگیا ہے، جس میں ایک پاکستانی نژاد خاندان کو غیرت کے نام پر اپنی بیٹی کو قتل کرنےکے الزامات کا سامنا ہے۔

default

پیرکو اس مقدمے کی کارروائی کے دوران صورتحال اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کر گئی، جب اس کیس کے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے بھائی مدثر شیخ نے اپنے وکیل کو حیران کرتے ہوئے اعتراف کر لیا کہ اس نے نہ صرف اپنی بیس سالہ بہن سعدیہ شیخ کو قتل کیا تھا بلکہ اس سے قبل دوسری بہن ساریہ شیخ کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

ستائیس سالہ مدثر شیخ، اس کی بہن اور والدین کو ان الزامات کا سامنا ہے کہ انہوں نے 22 اکتوبر 2007ء کو سعدیہ شیخ کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا۔ قانون کی طالبہ سعدیہ اپنے گھر والوں کی مرضی سے پاکستان میں مقیم اپنے اس کزن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، جسے اس نے کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔

NO FLASH Symbolbild Verhaftungen Belgien Polizei Verbrechen Terror

مدثر اور اس کے خاندان پر الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے

سعدیہ نے اس معاملہ پر گھریلوتشدد سے تنگ آ کر گھر چھوڑ دیا تھا اور وہ اپنے ایک بیلجین بوائے فرینڈ کے ساتھ رہتی تھی۔ اس دوران سعدیہ نے کچھ وقت گھر یلو تشدد کے شکار افراد کے لیے بنائے گئے ایک سینٹر میں بھی گزارا۔ تاہم 22 اکتوبر 2007ء کو جب وہ اس معاملے کے تصفیے کے لیے گھر پہنچی تو مبینہ طور پر اس کے بھائی نے اسے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

مدثر کی 22 سالہ بہن ساریہ، 59سالہ والدہ زاہدہ پروین اور اکسٹھ سالہ والد طارق محمود شیخ پر الزام ہے کہ انہوں نے اس قتل میں معاونت کی تھی۔ تاہم وہ اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس قتل کی واردات میں وہ ملوث نہیں ہیں بلکہ  مدثر نے غصے میں آکر اچانک ہی سعدیہ کو قتل کر دیا تھا۔ مدثر نے بھی عدالت کو بتایا ہے کہ اس واردات میں نہ تو اس کی بہن ملوث ہے اور نہ ہی والدین۔

پیر کو مقدمہ کی سماعت کے دوران مدثر نے یہ اعتراف بھی کیا کہ 2007ء میں اس نے اپنی چھوٹی بہن ساریہ پر بھی فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئی تھی۔ مدثر نے مزید کہا کہ وہ اس مقدمے کے دوران بہت سے حقائق سامنے لائے گا۔

یہ مقدمہ تین تا چار ہفتے تک جاری رہے گا۔ اگر مدثر اور اس کے خاندان پر الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM