1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ایک بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزر گیا

منگل آٹھ نومبر کو ایک بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزر گیا ہے۔ تاہم امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ اس سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا سرے سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

default

2005 YU55 نامی یہ سیارچہ عالمی وقت کے مطابق رات گیارہ بج کر اٹھائیس منٹ پر زمین سے تین لاکھ پچیس ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر گزرا۔ پچھلے دو سو سال کے دوران یہ سیارچہ زمین کے قریب ترین فاصلے سے گزرا۔

دنیا بھر میں علم فلکیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس سیارچے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اپنی خلائی دور بینوں کا رخ آسمان کی طرف کیے ہوئے تھے۔ تاہم جب یہ سیارچہ منگل کی شب زمین کے قریب ترین فاصلے سے گزرا تو یہ اتنا مدھم تھا کہ اسے کھلی نظر سے دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا کی ترجمان ویرونیکا میک گریگر نے سیارچے کے گزرنے سے قبل بتایا :’’ اسے دیکھنا بہت ہی مشکل ہوگا۔ انسانی آنکھ جس روشنی کو دیکھ سکتی ہے یہ سیارچہ اس سے 100 گنا مدھم ہوگا۔ اسے دیکھنے کے لیے بہت اچھی دور بین چاہیے۔‘‘

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ کم از کم گزشہ 200 برس کے دوران اس کی زمین سے کم ترین دوری تھی

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ کم از کم گزشہ 200 برس کے دوران اس کی زمین سے کم ترین دوری تھی

اس سیارچے کا قطر 400 میٹر یعنی 1300 فٹ کے قریب ہے اور یہ زمین، مریخ اور نظام شمسی کے سیارے زہرہ یعنی وینس کے قریب قریب سفر کرتا رہتا ہے، تاہم ناسا کا کہنا ہے کہ یہ کم از کم گزشہ 200 برس کے دوران اس کی زمین سے کم ترین دوری تھی۔

اس حجم کے دیگر سیارچے بھی زمین کے قریب سے گزرتے رہتے ہیں، مگر اس سے قبل اس طرح کا واقعہ 1976ء میں پیش آیا تھا جبکہ زمین کے قریب سے کسی سیارچے کے گزرنے کا آئندہ واقعہ سن 2028 میں ہوگا۔ تب WN5 2001 نامی ایک سیارچہ زمین اور چاند کے درمیان سے گزرے گا۔

ناسا کے مطابق YU55 2005 جب زمین کے قریب تک فاصلے سے گزرا تو اس وقت اس کا زمین سے فاصلہ تین لاکھ چوبیس ہزار چھ سو کلومیٹر تھا۔ ناسا کے زمینی مرکز سے ناپا گیا یہ فاصلہ زمین سے چاند تک کے فاصلے کا قریب .85 گنا بنتا ہے۔

یہ سیارچہ ان سیارچوں میں سے ایک ہے جو وقتاﹰ فوقتاﹰ زمین کے قریب سے گزرتے رہتے ہیں اور جو زمین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں

"یہ سیارچہ ان سیارچوں میں سے ایک ہے جو وقتاﹰ فوقتاﹰ زمین کے قریب سے گزرتے رہتے ہیں اور جو زمین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں"

ایریزونا یونیورسٹی کے محقق رابرٹ میک ملن کے مطابق یہ سیارچہ ’ان سیارچوں میں سے ایک ہے جو وقتاﹰ فوقتاﹰ زمین کے قریب سے گزرتے رہتے ہیں اور جو زمین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سیارچوں کے مدار زمین کے مدار کے قریب واقع ہیں یا وہ زمین کے مدار سے گزرتے ہیں۔‘‘ میک ملن ہی نے اس سیارے کو 2005ء میں دریافت کیا تھا۔

ماہرین فلکیات نے اس سیارے کے مدار کے تجزیے سے اندازہ لگا لیا تھا کہ اس مرتبہ اس سیارے سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم اگلی مرتبہ یہ سیارہ 2094ء میں زمین سے اور بھی کم فاصلے سے گزرے گا۔ سائنسدانوں کی پیش گوئی کے مطابق اُس وقت اس کا زمین سے فاصلہ دو لاکھ 78 کلومیٹر ہوگا۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس