1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک بلوچ لڑکی کا خواب، تمام خواتین کے لئے

مہتاب کنول خواتین کے ملبوسات پر کڑھائی کرتی ہے اور ایک فیشن ڈیزائنر کے طور پر مستقبل میں اپنے کسی بوتیک کا مالک ہونا اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے۔

default

بلوچ معاشرے میں خواتین کے بارے میں عموعی سوچ آج بھی عدم مساوات سے عبارت ہے

مہتاب ایک ایسے صوبے میں رہتے ہوئے اپنے لئے خوشحالی اور ترقی کے خواب دیکھ رہی ہے، جو پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے اور انتہائی حد تک غیر ترقی یافتہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی ابھی تک نابالغ اس لڑکی کا یہ خواب کبھی پورا بھی ہو جائے کیونکہ اس نے کوئٹہ میں کھولے گئے ایک ایسے نئے پیشہ ورانہ تربیتی ادارے سے فیشن ڈیزائننگ کا وہ کورس بھی مکمل کیا ہے، جس کے لئے اسےکوئی فیس ادا نہیں کرنی پڑتی تھی۔

بلوچستان میں یہ تربیتی ادارہ چند ایسے نئے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہے، جن کی ابھی حال ہی میں مقامی صحافیوں کو سیر بھی کروائی گئی۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور بلوچستان کے چند دوسرے شہروں میں یہ منصوبے فوج کی نگرانی میں مکمل کئے جا رہے ہیں۔

سولہ سالہ مہتاب کنول کا کہنا ہےکہ اس کا تعلق کم آمدنی والے اور سماجی طور پر درمیانے طبقے کے ایک خاندان سے ہے لیکن وہ چاہتی ہے کہ معاشی طور پر وہ اپنے والدین کی مدد کرے۔ اس کے علاوہ مہتاب معاشرے میں خواتین کو ان کا جائز سماجی مقام دئے جانے کی بھی بہت بڑی حامی ہے۔

مہتاب کنول نے ابھی حال ہی میں کوئٹہ میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ مستقبل میں اپنا ایک بوتیک کھولنا چاہتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ خواتین کے لئے پیشہ ورانہ تربیت کا ایک مرکز بھی قائم کرے۔ اس خواہش کے پیچھے اس کی یہ سوچ کارفرما ہے کہ جو ہنر اس نے سیکھا ہے، اسے سیکھنے کا موقع بلوچستان میں اس کے آبائی شہر کوئٹہ کے علاوہ صوبے کے دیگر شہروں کی نوجوان لڑکیوں کو بھی ملنا چاہئے۔

اس نوجوان لڑکی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جس ادارے میں تربیت حاصل کی اس کا نام

Warteschlange der Erdbebenopfer

بلوچ خواتین : خواندگی کی شرح بہت کم اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع نہ ہونے کے برابر

بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن BITE ہے۔ یہ انسٹیٹیوٹ تین سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس کی بنیاد ملکی فوج نے رکھی تھی۔ یہ ادارہ ایک ایسے پائلٹ پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد بلوچستان کے غیر تربیت یافتہ نوجوانوں کو ماہر اور تجربہ کار کارکنوں میں تبدیل کرنا ہے۔

اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں نوجوانوں کی حالت بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدرتی وسائل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال اس صوبے کے نوجوانوں کو پسماندگی، بد امنی اور مسلح علیحدگی پسندی کی تحریک جیسے عوامل کی وجہ سے آج تک کوئی بہت بہتر امکانات میسر ہی نہیں آئے۔

لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ ایسے منصوبوں کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کے نوجوان بچوں اور بچیوں کو یہ مواقع مہیا کئے جا رہے ہیں کہ وہ کوئی نہ کوئی ہنر سیکھیں اور اپنے اپنے خاندانوں کے لئے اضافی آمدنی اور سماجی خوشحالی کو یقینی بنائیں۔

کوئٹہ میں BITE نامی تکنیکی تربیتی ادارے نے 2007 میں کام کرنا شروع کیا تھا ۔ وہاں اس وقت پانچ سو سے زائد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت دی جا رہی ہے۔ ان میں سے ساڑے تین سوکے قریب لڑکے ہیں اور 165 نوجوان لڑکیاں۔

اس ادارے میں تربیت کے لئےطلبہ و طالبات کو کوئی فیس ادا نہیں کرنی پڑتی بلکہ BITE کے سربراہ بریگیڈیئر جمیل سرور کے مطابق غریب بچوں اور بچیوں کو ماہانہ بنیادوں پر اس لئے فی کس دو ہزار روپے بطور وظیفہ بھی ادا کئے جاتے ہیں کہ ان کی ایسے تکنیکی تربیتی پروگراموں میں شرکت کی مالی طور پر حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

اس انسٹیٹیوٹ کی طرف سے نوجوانوں کو جن شعبوں میں تربیت دی جاتی ہے ان میں بیوٹیشن کورسز اور سلائی کڑھائی کے علاوہ گاڑیوں کی مرمت اور آٹو الیکٹریشن جیسے پیشے شامل ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM