ایک برس میں پچاس ہزار مہاجرین کو ملازمتیں فراہم: جرمنی | مہاجرین کا بحران | DW | 15.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ایک برس میں پچاس ہزار مہاجرین کو ملازمتیں فراہم: جرمنی

مہاجرین اور تارکین وطن سے متعلق وفاقی جرمن دفتر (بی اے ایم ایف) نے کہا ہے کہ گزشتہ برس جرمنی آنے والے مہاجرین میں سے متعدد افراد جرمن جاب مارکیٹ میں ضم ہونے کی بہترین پوزیشن میں ہیں۔

Bundesamt für Migration und Flüchtlinge BAMF (picture-alliance/dpa/A. Weigel)

بی اے ایم ایف نے کہا ہے کہ مہاجرین میں سے متعدد افراد جرمن جاب مارکیٹ میں ضم ہونے کی بہترین پوزیشن میں ہیں

یہ بات بی اے ایم ایف کے سربراہ فرانک یورگن وائزے نے جرمن ریاست باویریا کے شہر ارلانگن میں قدامت پسند سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین کی  ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یورگن وائزے نے گزشتہ برس تارکین وطن کی جرمنی آمد سے متعلق  چیلنجز کے حوالے سے عام روش سے ہٹ کر بہت امید افزا نقطہء نظر پیش کیا۔

جرمنی میں ’انسٹیٹیوٹ آف ایمپلائمنٹ ریسرچ‘ کی آج بروزِ منگل 15 نومبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر 2015 اور ستمبر 2016 کے درمیانی عرصے میں قریب پچاس ہزار مہاجرین کو جرمنی میں ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔

جرمنی: ہم جنس پرست مردوں میں ایڈز سب سے زیادہ

تیس ہزار کے قریب تارکینِ وطن کی آمدن اُس سطح پر ہے جہاں وہ اپنی سوشل انشورنس کی ادائیگی خود کر سکتے ہیں۔ کچھ مہا جرین نے خود اپنا کام شروع کر دیا ہے جبکہ ایک لاکھ کے قریب پناہ گزین بے روزگاری الاؤنس حاصل کر رہے ہیں۔

Deutschland Berlin Ehrenamtliche Flüchtlingshelfer (Getty Images/C. Koall)

کچھ مہا جرین نے خود اپنا کام شروع کر دیا ہے جبکہ ایک لاکھ کے قریب پناہ گزین بے روزگاری الاؤنس حاصل کر رہے ہیں

انیس البارودی ایک شامی مہاجر ہیں جو میونخ کے قریب قائم ریڈ کراس کے پناہ گزین شیلٹر میں بطور آئی ٹی منیجر کام کر رہے ہیں۔ بارودی نے اپنے تجربات کے تناظر میں ڈی ڈبلیو سے  بات کرتے ہوئے کہا، ’’ میں گزشتہ برس جرمنی آنے والے متعدد انجینیئرز کو جانتا ہوں۔ اُن میں سے بہت سے شام میں بڑی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔‘‘

جرمنی میں ملازمت ملنے کے حوالے سے بارودی کا کہنا تھا، ’’ میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں۔ جرمنی آنے والے شامی مہاجرین کی ایک خاطر خواہ تعداد تعلیم یافتہ ہے۔ سب کے پاس تو نہیں لیکن بہت سوں کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری ہے۔‘‘

انتہا پسندی کی تشہیر کرنے والا پولیس میں بھرتی نہیں ہو سکتا

تاہم بعض ماہرین  بی اے ایم ایف کے تازہ اعداد و شمار کے متعلق تذبذب کا شکار ہیں۔ جرمنی میں کلون یونیورسٹی کے ’انسٹیٹیوٹ آف اکنامک ریسرچ‘ نے رواں برس مہاجرین کی تعلیمی سطح کے حوالے سے بی اے ایم ایف کے جائزے سے ملتی جلتی ریسرچ رپورٹ جاری کی تھی تاہم اُس کے نتائج کافی مختلف تھے۔ مختلف تعلیمی سطح کے ساتھ آنے والے مہاجرین کی آمد اگرچہ جرمنی کے لیے نیا چیلنج ہے لیکن جرمن حکومت اپنے امیگریشن نظام کو اعلٰی تعلیم یافتہ مہاجرین کے لیے آسان بنانے کے لیے تیز اقدامات اٹھا رہی ہے۔

DW.COM