1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک بار پھر کراچی کا ایم کیو ایم پر اعتماد

کراچی کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ کو اعتماد کا ووٹ دے دیا ہے۔ ایم کیو ایم کو شہر کے نئے میئر کے انتخاب کے لیے واضح اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔

کراچی کے چھ اضلاع کی 207 یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نشستوں میں سے ایم کیو ایم 127 حاصل کرچکی ہے۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایم کیو ایم کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے ضلع وسطی کی 51 میں سے 49 یو سیز پر ایم کیو ایم کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کامیاب قرار ہوئے جب کہ ضلع کورنگی کی 37 میں سے اب تک 30 یو سیز ایم کیو ایم کے نام رہی ہیں۔ دیگر چار اضلاع میں بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن، ایم کیو ایک کی سیاسی کامیابی؟

تجرزیہ کاروں کی رائے میں کراچی میں ہونے والے ہر آپریشن کا فائدہ ایم کیو ایم کو پہنچاتا ہے، اور شہر میں جاری حالیہ آپریشن کے دوران ہونے والی گرفتاریوں نے ایم کیو ایم کو بھرپور سیاسی فائدہ پہنچایا ہے۔ ایم کیو ایم کے احیاء کا جو سلسلہ رواں برس اپریل میں ہونے والی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخاب سے شروع ہوا تھا وہ بلدیاتی انتخابات میں پورا ہوگیا ہے۔

ایم کیو ایم کے امیدواروں نے مخالفین کے سرکردہ رہنماوں کو بھی شکست دے دی۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور تحریک انصاف کراچی کے آرگنائزر علی زیدی کو بھی مات دے دی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر نجمی عالم تحریک انصاف کے امیدوار سے شکست کھا گئے ہیں۔

نائن زیرو پر جشن

ایم کیو ایم کی متوقع کامیابی کے باعث پارٹی کے مرکز نائن زیرو پر رات کو ہی جشن کا سماں تھا۔ رہنماوں اور کارکنوں کے ساتھ پارٹی کے حامیوں نے بھی کامیابی کا خوب مزہ لیا۔ عزیز آباد رات بھر پارٹی ترانوں پر رقص، پرجوش نعرے بازی اور آتش بازی سے دمکتا رہا۔

وزیر اعلٰی سندھ قائم علی شاہ نے ایم کیو ایم کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی جانب سے میئر شپ کے مضبوط امیدوار وسیم اختر کو مباک باد پیش کی ہے۔

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا اتحاد حیران

حیران کن طور پر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد کارگر ثابت نہیں ہوسکا اور دوسری پوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کو ملی جس کو اب تک 40 نشستیں حاصل ہوچکی ہیں، البتہ لیاری کی 15 میں صرف 6 پر پیپلز پارٹی کامیابی حاصل کرسکی ہے۔ شہر میں جماعت اسلامی 12 اور تحریک انصاف صرف 8 سیٹین جیت پائی ہے، اور 10 نشستیں آزاد امیدواروں کے نام رہی ہیں۔

جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر انتخابات کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2013 کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے کراچی میں بائیکاٹ کیا تھا اور الیکشن کمشن نے خود اعتراف کیا تھا کہ وہ کراچی میں شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ بلدیاتی الیکشن بھی ان ہی ووٹر فہرستوں کے تحت ہوئے ہیں جب کہ ’ٹھپا مافیا‘ نے اپنا عملہ تعینات کررکھا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رینجرز اور پولیس نے 12 جعلی انتخابی افسران کو گرفتار کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایم کیو ایم نے گڑبڑ کی ہے۔

Pakistan Mitglieder der Oppositionspartei MQM vor Gericht

کئی ماہ سے رینجرز ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں

تجزیہ کاروں کی رائے میں انتخابات کا ٹرن آوٹ تقریباً 30 فیصد رہا لیکن جماعت اسلامی کو تحریک انصاف سے اتحاد کا نقصان بھی متوقع تھا کیوں کہ جماعت اسلامی کے حامی دونوں جماعتوں کے اتحاد سے خوش نہیں تھے، لہٰذا جماعت اسلامی ضلع وسطی کے کئی علاقوں میں ایم کیو ایم کا مقابلہ ہی نہ کرسکی۔ گزشتہ دوپہر تک اکثر مقامات پر جماعت اسلامی کے انتخابی کیمپ بھی خالی ہوگئے تھے۔

پر امن انتخابات

کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی سب سے اہم بات اس کا پر امن رہنا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بے ضابطگیاں بھی ہوئیںٕ لیکن اس کی سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں کیوں کہ اکثر مقامات پر عملہ موجود تھا لیکن پولنگ ایجنٹس پر وقت نہیں پہنچے جس سے پولنگ کا عمل دیر سے شروع ہوا۔ لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی ذمہ داری پوری جاں فشانی سے نبھائی ہے۔ اکا دکا لڑائی جھگڑوں میں چند لوگ زخمی ہوئے لیکن کہیں امنِ عامہ کا بڑا مسئلہ درپیش نہیں رہا۔