1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک اور کشمیری پولیس شیلنگ سے ہلاک

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت مخالف مظاہرے میں شریک ایک اور نوجوان مبینہ طور پر پولیس کی شیلنگ سے ہلاک ہوگیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں اس طرز کے واقعات میں پانچ کشمیری مارے جاچکے ہیں۔

default

ہفتے کو مارے جانے والے نوجوان کے بارے میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کوبتایا، ’’ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے ایک گروہ پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ پولیس کیمپ پر حملہ آور ہورہے تھے۔‘‘ اسی واقعے میں متعدد مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایک خاتون کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

گزشتہ روز تین مظاہرین سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک جبکہ پچھتر افراد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کا موقف یہ ہے کہ یہ مظاہرین پولیس اہلکاروں پر پتھر برسا رہے تھے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ یہ ایک پُر امن جلوس تھا۔

علیحدگی پسندوں کا گڑھ تصور کئے جانے والے ضلع بارہ مولا میں جمعہ سے اب تک پانچ نوجوان مارے جاچکے ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کشمیر میں مشتعل کشمیری کرفیو کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ کشمیری نوجوان کی حالیہ ہلاکت کو پولیس کیمپوں،

Kaschmir Kashmir Indien Polizei Protest Demonstration Muslime Steine

کشمیر میں ایک ماہ کے دوران میں بائیس نوجوانوں کو ہلاک کیا گیا ہے

ریلوے سٹیشنوں اور دیگر سرکاری عمارات پر مشتعل مظاہرین کے حملے روکنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم کی جانب سے پرامن رہنے کی اپیلوں کے باوجود حکومت مخالف مظاہروں میں دن بہ دن شدت دیکھی جارہی ہے۔

اس مسلم اکثریتی آبادی والے خطے میں گیارہ جون سے حکومت مخالف جذبات میں شدت دیکھی جارہی ہے۔ 11 جون کو اس سلسلے کا پہلا نوجوان طالب علم پولیس کی شیلنگ میں مارا گیا تھا۔ ہفتے کو وادی کے تمام بڑے شہروں میں کرفیو نافذ تھا تاہم پھر بھی سو پور اور کریری نامی دو علاقوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر آئے اور حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM