1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک اور مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ

آج اتوار کے روز انڈونیشیا کی ایک نجی فضائی کمپنی کا ایک مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ حکام کے مطابق طیارے میں انچاس مسافر اور عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔

انڈونیشی حکام نے بتایا کہ تریگانہ ایئر سروس کے اس طیارے کا رابطہ اس وقت زمینی عملے سے اچانک منقطع ہو گیا، جب وہ مشرقی صوبے پاپوآ کے دارالحکومت جایاپورا سے اوکسیبی جا رہا تھا۔ سرکاری بیان کے مطابق طیارے کا ملبہ مل گیا ہے۔ تباہ ہونے والے طیارے میں پانچ بچے بھی سوار بتائے گئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اوکسیبی میں موسم انتہائی خراب تھا اور شدید بارش کے ساتھ ساتھ دھند بھی چھائی ہوئی تھی اور تیز ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔ ’’ہوائی اڈے پر اترنے سے چند منٹ قبل ہی طیارے سے رابط ختم ہو گیا تھا اور پائلٹ کی جانب سے کسی قسم کا کوئی ہنگامی پیغام موصول نہیں ہوا تھا۔‘‘ تباہ ہونے والا طیارہ ATR42-300 طرز کا تھا۔

Papua-Neuguinea Dschungel Luftaufnahme Symbolbild Suche nach Flugzeug

پاپوآ صوبے کا زیادہ تر علاقہ جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے

پاپوآ صوبے کا زیادہ تر علاقہ جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے اور ماضی میں اس علاقے میں حادثے کا شکار ہونے والے کئی جہازوں کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

انڈونیشیا کے فضائی محکمے کو حفاظتی انتظامات کے فقدان کی وجہ سے گزشتہ دنوں کے دوران عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2007ء سے 2009ء تک یورپی یونین نے ناقص حفاظتی انتظامات کے خدشات کی بناء پر انڈونیشی طیاروں کی یورپ میں آمد پر پابندی بھی عائد کر دی تھی۔
ایک جانب تو اس ملک میں فضائی سفر کی شرح میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف 250 ملین کی آبادی والے اس ملک کو تربیت یافتہ پائلٹوں، تکنیکی عملے، ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور جدید ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں انڈونیشیا کی ایک نجی فضائی کمپنی ایئر ایشیا کا ایک طیارہ جاوا کے قریب سمندری پانیوں میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس واقعے میں 162 افراد ہلاک ہوئے تھے۔