1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک اور صوبے کا گورنر پی پی پی کا لیڈر

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک قریبی سیاسی حلیف کو صوبہ خیبر پختونخوا کا گورنر مقررکر دیا ہے۔

default

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی لیڈراورایک نامور وکیل بیرسٹر سید مسعود کوثر، شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے نئے گورنر کا عہدہ جمعرات کو سنبھالیں گے۔

بیرسٹر کوثر، اویس احمد غنی کی جگہ خیبر پختونخوا کے گورنر بنیں گے۔ اویس احمد غنی کو سابق فوجی ملکی سربراہ پرویز مشرف نے اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔ انہوں نے پہلے بلوچستان کے گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد ازیں خیبر پختونخوا کے گورنر رہے۔

Mindestens 50 Tote bei Anschlag in Peshawar

خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتحال ہنوز سنگین ہے

اُدھر صدرآصف علی زرداری کی ایک خاتون ترجمان فرح ناز اصفہانی نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیرسٹر کوثر کی تقرری ایک انتظامی فیصلہ ہے، جس کا مقصد اس شورش زدہ صوبے کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔

دریں اثناء صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات اور حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی اے این پی کے ایک سینیئر رکن میاں افتخار حسین نے گورنر کے عہدے سے دست بردار ہونے والے اویس احمد غنی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایک روٹین کی تبدیلی ہے۔

سید مسعود کوثر گزشتہ ایک ماہ کے اندر مقرر ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے دوسرے گورنر ہیں۔ گزشتہ ماہ یعنی جولائی کی 11 تاریخ کو صدر زرداری نے سابق اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کو پنجاب کا گورنر مقرر کیا تھا۔

Pakistan Mumtaz Qadri Mord Gouverneur Salman Taseer

مقتول گورنر پنجاب سلمان ناثیر کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی گورنرشپ سنبھالی۔

خیبر پختونخوا کے نئے گورنر بیرسٹر ہیں اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کئی اہم مقدمات میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ان کا تعلق کوہاٹ سے ہے۔ انہوں نے قانون کی ڈگری پشاور یونیورسٹی ہی سے حاصل کی۔

پاکستان کا شمال مشرقی صوبہ خیبر پختونخوا نہ صرف ایک عرصے سے شورش اور دہشت گردی کا گڑھ بنا ہوا ہے بلکہ القاعدہ کے خلاف امریکہ کی بپا کی ہوئی جنگ میں ایک اہم اسٹرٹیجک علاقے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس علاقے میں بم حملے اور مسلح جھڑپیں روزمرہ کا معمول ہیں، جن کے بارے میں عام تصور یہی پایا جاتا ہے کہ ان دہشت گردانہ سرگرمیوں کے پیچھے پاکستان کی سرزمین پر ہی پروان چڑھنے والے طالبان عناصر کا ہاتھ ہے۔ اس عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستانی فوج سالوں سے آپریشن کر رہی ہے تاہم اُسے اب تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس