1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک اور شخص کا آرچ بشپ پر جنسی زیادتی کا الزام

امریکی جزیرے گوام کے آرچ بشپ پر ایک شخص نے جنسی زیادتی کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔ 40 برسوں میں یہ چوتھا شخص ہے، جس نے اس آرچ بشپ پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق سن 1970 کی دہائی میں پادری کے ساتھ سروس میں مدد فراہم کرنے والے ایک 54 سالہ شخص رولانڈ پال نے الزام عائد کیا ہے کہ اُسے 15 برس کی عمر میں آرچ بشپ اینتھونی اپورن، جو اس وقت ایک پادری تھے، نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

رولانڈ پال کے علاوہ دو اور افراد نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ اپورن نے انہیں سن 1970 کی دہائی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اپورن پر اب تک جرم ثابت نہیں ہوسکا اور انہوں نے اپنے اوپر لگائے جانے والے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔

رولانڈ پال نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا، ’’جب میرے بچپن کے دوستوں نے بھی ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے تجربے مجھے بتائے تو مجھے حوصلہ ہوا اور میں نے بھی سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا۔‘‘

ان الزامات کے بعد ویٹیکن کی جانب سےعارضی بنیادوں پر ساویو ہان ٹائی فائی کو بطورایڈمنسٹریٹر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ہان ٹائی فائی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ، ’’اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ساری معلومات ویٹیکن کو پیش کی جائیں گی۔‘‘

جمعرات کے روز ہون ٹائی فائی نے ایک ایسے حکم نامے کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت کیتھولک مسیحی اس گروپ سے وابستہ نہیں ہو سکتے، جو اپورن کو آرچ بشپ کے عہدے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ اپورن نے یہ حکم نامہ 5 جون کو جاری کیا تھا۔ اس گروپ کے سربراہ ڈیوڈ سپلان کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ سچ جاننا چاہتا ہے۔

رولانڈ پال کا کہنا ہے کہ سن 1977 میں رات میں اپورن نے انہیں ایک کمرے میں بلایا اور وہاں اپورن نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پریس کانفرس کے دوران رولانڈ نے کہا، ’’سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا، میں انتہائی شرمندہ اور مایوس تھا کہ جس شخص کی میں بہت عزت کرتا ہوں، اس نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔‘‘

رولانڈ پال ’پیسیفک ڈیلی نیوز‘ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی مینیجر ہیں اور اس ادارے میں سن 1981 سے کام کر رہے ہیں۔ اے پی نے فون کے ذریعے اپورن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پایا تھا۔

DW.COM