1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک اور امریکی ریاست میں موت کی سزا ختم

امریکی ریاست الی نوئے میں متعدد عدالتی فیصلے غلط ثابت ہونے کے بعد موت کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔ ریاست کے گورنر پیٹ کوئین نے ایک قانون پر دستخط کیے ہیں، جس کی منظوری اِس ریاست کی کانگریس نے اِس سال جنوری میں دی تھی۔

default

اِس قانون پر دستخط کرنے کے ساتھ ساتھ گورنر کوئین نے سزائے موت کے منتظر پندرہ قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ قانون اِس سال یکم جولائی سے نافذ العمل ہو گا۔ اِس طرح الی نوئے امریکہ کی 16 ویں ریاست بن گئی ہے، جہاں موت کی سزا ختم کی گئی ہے۔ اب تک آخری مرتبہ یہ سزا 2009ء میں امریکی ریاست نیو میکسیکو میں ختم کی گئی تھی۔

کوئین نے کہا کہ بطور گورنر یہ اُن کا اب تک کا ’مشکل ترین فیصلہ‘ تھا۔ مقتولین کے مدعیان اور لواحقین گورنر پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ اِس سزا کے خاتمے کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کریں تاہم گورنر کے مطابق وہ بالآخر اِسی فیصلے پر پہنچے کہ موت کی سزا دینے والا کوئی بھی نظام اتنا مکمل نہیں ہے کہ وہ غلط فیصلوں سے پاک ہو، اِس لیے اس سزا کو ختم کرنا ہی درست اقدام ہو گا۔

Supreme Court in Washington

امریکہ کی پچاس میں سے چونتیس ریاستوں میں موت کی سزا تاحال برقرار ہے۔

اِس ریاست کی اب تک کی تاریخ میں 13 بے قصور افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد سے گزشتہ دَس برسوں سے یہاں موت کی سزاؤں پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔ امریکہ میں 1976ء میں موت کی سزائیں پھر سے متعارف کروائے جانے کے بعد سے الی نوئے میں 12 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔ امریکہ میں موت کی سزاؤں پر عملدرآمد کی شرح میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ 2010ء میں اُس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں بارہ فیصد کم قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوا۔

1977ء سے امریکہ میں 1242 افراد کی موت کی سزاؤں پر عملدرآمد ہوا۔ 1999ء میں سب سے زیادہ یعنی 98 افراد کو یہ سزا دی گئی۔ اس سال اب تک آٹھ افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوا ہے۔

سن 2008ء کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ موت کی سزاؤں پر عملدرآمد کے اعتبار سے دُنیا بھر میں چوتھے نمبر پر رہا۔ موت کی 1718 سزاؤں کے ساتھ چین سرِ فہرست رہا، ایران میں 346 افراد کو پھانسی دی گئی، سعودی عرب میں 102 افراد کی موت کی سزاؤں پر عملدرآمد ہوا۔ پانچویں نمبر پر پاکستان تھا، جہاں 36 افراد کو پھانسی دی گئی۔ اُس سال عراق میں موت کی 34 سزاؤں پر عملدرآمد کیا گیا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس