1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک اور امدادی جہاز کے خلاف اسرائیل کی کارروائی

اسرائیلی فوج نے غزہ کے لئے امدادی سامان لے جانے والے ایک اور بحری جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ہفتے کی صبح اسرائیلی فوج نے اس جہاز اور عملے کے تمام افراد کو اپنی حراست میں لے لیا۔

default

اسرائیلی فوج کی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج کی جانب سے درخواست کے باوجود، جب اس جہاز نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، تو مجبوراً اسے حراست میں لینا پڑا۔ ترجمان کے مطابق اس فوجی کارروائی میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

’’ریچل کوری‘‘ نامی اس آئرش بحری جہاز کو چار مرتبہ متنبہ کیا گیا کہ وہ غزہ کی جانب بڑھنے کا ارادہ ترک کر کے اسرائیلی بندرگاہ اشدود پر لنگر انداز ہو جائے تاہم جہاز کی جانب سے ان درخواستوں کا کوئی جواب نہ دیا گیا۔ بحری جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا۔

’’ریچل کوری‘‘ غزہ کے لئے امدادی سامان لے جانے والے فریڈم فلوٹیلا نامی بحری قافلے کا حصہ تھا، تاہم یہ جہاز بعض تکنیکی وجوہات کی بناء پر پیچھے رہ گیا تھا۔گزشتہ پیر کو فریڈم فلوٹیلا میں شامل چھ بحری جہازوں نے اسرائیلی ناکہ بندی کی پرواہ کئے بغیر غزہ کی جانب بڑھنا شروع کیا تھا۔ تاہم راستے ہی میں بین الاقوامی سمندری حدود میں اسرائیلی فوج نے ایک کمانڈو ایکشن کے ذریعے اس قافلے میں شامل تمام جہازوں اور تقریباً 700 امدادی کارکنوں کو اپنی حراست میں لے لیا تھا۔ اس کمانڈو

Israelische Flotte will Gaza-Hilfe stoppen

گزشتہ پیر کو اسرائیلی فوج کی ایک کارروائی میں فریڈم فلوٹیلا نامی امدادی بحری قافلے میں شامل نو افراد ہلاک ہوگئے تھے

ایکشن میں نو افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کی صبح ریڈیو پیغام کے ذریعے چار مرتبہ ریچل کوری بحری جہاز کو خبردار کیا گیا کہ وہ غزہ کی طرف نہ بڑھے تاہم جہاز نے یہ ہدایات مسترد کر دیں۔ ترجمان کے مطابق غزہ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کارروائی کے بعد اس جہاز پر اسرائیلی بحریہ نے قبضہ کر لیا۔

فوجی ترجمان نے مزید بتایا کہ ہفتے کی صبح بار بار اس جہاز کو یہ ہدایات دی گئیں: ’’یہ اسرائیلی بحریہ کا اعلان ہے۔ آپ ایک ایسے علاقے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جسے بحری ناکہ بندی کا سامنا ہے۔ غزہ، اس کا بحری علاقہ اور بندرگاہ ہر قسم کے جہازوں کے لئے بند ہیں۔ اسرائیلی حکومت غزہ کے لئے امدادی سامان کی حمایت کرتی ہے، لیکن اس کے لئے آپ کو اشدود کی بندگاہ سے جانا ہو گا۔ امدادی سامان کی ترسیل حکام کے نگرانی میں ہوگی۔‘‘

جمعے کے روز اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت اس جہاز کو غزہ جانے کی اجازت نہیں دے گی۔

سن 2007ء میں غزہ پر عسکریت پسند تنظیم حماس کے انتظام سنبھال لینے کے بعد سے اب تک اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ کے لاکھوں شہریوں کو خوارک، پینے کے صاف پانی اور ضروری ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات