1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ایک ارب ٹن سے وزنی اور 175 کلومیٹر طویل برفانی پہاڑ ٹوٹ گیا

سائنسدان گزشتہ کئی ماہ سے انٹارکٹک میں ایک بہت بڑے شگاف کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ اب ایک ارب ٹن سے بھی زیادہ وزنی برف کا یہ پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں ٹوٹنے والا یہ برف کا سب سے بڑا تودہ ہے۔

قطب جنوبی میں واقع براعظم انٹارکٹکا میں ایک ارب ٹن سے بھی زیادہ وزنی برف کا پہاڑ برف کی تہہ سے ٹوٹ کر الگ ہو گیا ہے۔ جرمن شہر بریمن ہافن میں واقع پولر اور میرین ریسرچ کے الفریڈ واگنر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ تودہ بدھ کے روز ٹوٹا ہے۔

محققین کے مطابق برف کا یہ پہاڑ 175 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی چوڑائی تقریبا 50 کلومیٹر بنتی ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق یہ انتہائی بڑا تودہ ابھی شمال کی طرف بہہ رہا ہے اور اس کو پگھلنے کے لیے بھی کم از کم دو سے تین برس کا عرصہ درکار ہوگا۔

سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ تیس برسوں کے دوران انہوں نے پہلی مرتبہ اتنے بڑے برفانی تودے کا مشاہدہ کیا ہے اور اس کا شمار تاریخ کے بڑے ترین تودوں میں ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ضرر رساں گیسوں کا اخراج قطب شمالی کے ارد گرد کی ہوا اور ماحول کو متاثر کر رہا ہے اور یہ چیز اس براعظم کے اطراف میں پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ زمین کا بالائی ماحول یونہی گرم ہوتا رہا تو قطب شمالی کے پگھلنے سے آنے والی دہائیوں کے دوران سمندر کی سطح میں اضافہ یقینی ہے۔

ورلڈ گلیشیئر مانیٹرنگ سروس کے مطابق اکیس ویں صدی کے آغاز سے دنیا بھر میں گلیشیئر اس تیزی سے پگھلنے لگے ہیں کہ جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی اور اس عمل کو روکنا اب ممکن نہیں ہو گا۔

سائنسدانوں کے مطابق دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود گلیشیئرز کا توازن بگڑ چکا ہے۔ یہ گلیشیئرز اس حد تک غیر مستحکم اور غیر متوازن ہو چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل آگے بڑھنے سے رک بھی جائے تو ان گلیشیئرز کی برف بدستور پگھلتی رہے گی۔

DW.COM