1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایک ارب افراد کو خوراک کی کمی

سن 2050 ء میں دنیا کی آبادی 9 ارب تک پہنچ جائے گی۔ ان میں سے 97 فیصد افراد تیسری دنیا میں پیدا ہوں گے، جہاں لوگ آج بھی آٹے اور چینی جیسے غذائی مسائل سے دوچار ہیں۔

default

خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے کے مطابق اس وقت دنیا میں ایک ارب افراد ایسے ہیں، جنہیں خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ جبکہ ہزاروں افراد ایسے ہیں جوکہ خوراک کی قلت کے باعث موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق زمین آج بھی اتنی زرخیز ہے کہ دنیا میں بسنے والے انسانوں کی ضرورت سے کئی گنا زیادہ خوراک پیدا کر سکتی ہے۔ خوراک کی کمی اور غذائی قلت جیسے مسائل انسان کے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں۔ اِس ادارے کے مطابق مسئلہ خوراک کی غلط تقسیم اور سیاسی نظام کا ہے۔ تکنیکی تعاون کی جرمن تنظیم GTZ کے سربراہ ہانس یوخم پروئس کا کہنا ہے: ’’بھوک کی اصل وجہ غربت ہے۔ لوگوں کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ وہ کھانے کے لئے کچھ خرید سکیں۔ ان کے پاس آج کھانے کو کچھ نہیں تو وہ کل کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ اور ایسا خاص طور پر افریقہ میں ہو رہا ہے۔‘‘

Armut in Afrika Südafrika

دنیا میں لاکھوں انسان ایسے ہیں، جو خالی پیٹ سوتے ہیں جبکہ کروڑوں افراد ایسے ہیں، جن کی یومیہ آمدنی ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔ درست اور فعال سیاسی نظام کے حامل ممالک میں ملازمتوں کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ غربت میں بھی کمی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جہاں سیاسی نظام بے اصولی کا شکار ہو یا فوجی آمریتیں قائم ہوں، وہاں غربت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق غربت کے خاتمےکے لئے ضروری ہے کہ غریب ملکوں کوترقی یافتہ ممالک کی منڈیوں تک رسائی دی جائے ۔ ہانس یوآخم پروئس کا مطالبہ ہے: ’’ہمیں غریب ممالک کو اپنی منڈیوں تک رسائی دینی چاہے۔ ہمیں ٹیکس اور دوسرے محصولات بھی کم کرنا ہوں گے تا کہ غریب ممالک کے باشندوں کو اپنی مصنوعات یورپ اور اس جیسی دوسری منڈیوں تک پہنچانےکا موقع مل سکے۔‘‘

ماہرین کے مطابق بہت سے ایسے اقدامات بھی ہیں، جو غریب ممالک کو خود کرنا ہوں گے۔ مثال کے طور پر رشوت اور بدعنوانی جیسے مسائل سے غریب ملکوں کو خود نمٹنا ہوگا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف توقیر