1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک آزاد، دوسرا جرمن جہاز قزاقوں کے قبضے میں

یورپی یونین کی نیول ٹاسک فورس اٹلانٹا نے تصدیق کر دی ہے کہ صومالی قزاقوں نے جس جرمن کیمکل ٹینکر پر مئی میں قبضہ کیا تھا اسے آزاد کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے لئے لاکھوں ڈالر کا تاوان ادا کیا گیا ہے۔

default

صومالی قزاق جرمن حکام کی حراست میں

مسلح صومالی قزاقوں نے آٹھ مئی کو عمان کی سمندری حدود سے Marida Marguerite نامی ایک کیمیکل ٹینکر کو اپنے قبضے میں کیا تھا۔ اس بحری جہاز میں بھارت کے انیس، بنگلہ دیش کے دو جبکہ یوکرائن کا ایک باشندہ سوار تھا۔ عملے کے تمام انیس افراد بخریت بتائے جا رہے ہیں۔

کینیا کے حکام نے کہا ہےکہ اس بحری جہاز کو آزاد کروانے کے لئے تاوان ادا کیا گیا ہے تاہم غیر جانبدار ذرائع سے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاوان کی رقم پچپن لاکھ ڈالر کے قریب بتائی جاتی ہے۔ صومالی قزاقوں سے بحری جہاز آزاد کروانے کے لئے ادا کئے جانے والے تاوان پر نہ تو حکام کوئی تبصرہ کرتے ہیں اور نہ ہی جہازوں کی مالک کمپنیاں۔ تاہم مبصرین کے خیال میں قزاقوں کے قبضے سے بحری جہاز آزاد کروانے کے لئے تاوان دئے جانے کا عمل عام ہے۔

Belgisches Schiff Pompei von Piraten gekapert

بحری جہازوں کی قزاقی کا عمل مسلسل جاری ہے

منگل کے دن اس جہاز کی واگزاری کے بعد حکام نے اعلان کیا ہے کہ صومالی قزاقوں نے ایک اور بحری جہاز عمان کے پانیوں سے اپنے قبضے میں کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تیل کی مصنوعات سے لدا یہ بحری جہاز متحدہ عرب امارات سے یونان کی طرف روانہ تھا کہ منگل کی صبح صومالی قزاقوں نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس جرمن جہاز میں عملے کے آٹھ افراد سوار ہیں۔ ان میں سے سات کا تعلق فلپائن جبکہ ایک کا رومانیہ سے ہے۔

قزاقی کے خلاف سرگرم عمل یورپی یونین کی خصوصی ٹاسک فورس کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت کل پچیس بحری جہاز اور 587 یرغمالی صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔ یورپی یونین کی خصوصی ٹاسک فورس کا سابقہ نام یورپی یونین نیول فورس ہے اور صومالی قزاقوں کے خلاف جاری آپریشن کا نام اٹلانٹا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس