ایکواڈور میں شدید زلزلہ، کم از کم 233 ہلاک، سینکڑوں زخمی | حالات حاضرہ | DW | 17.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایکواڈور میں شدید زلزلہ، کم از کم 233 ہلاک، سینکڑوں زخمی

لاطینی امریکی ملک ایکواڈور میں گزشتہ چند دہائیوں کے شدید ترین زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 77 افراد ہلاک ہو چُکے ہیں اور املاک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

لاطینی امریکی ملک ایکواڈور میں گزشتہ چند دہائیوں کے شدید ترین زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 233 افراد ہلاک ہو چُکے ہیں اور نجی و سرکاری املاک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ پندرہ سو سے زائد زخمی ہے۔ ان میں کئی کی حالت بہت نازک بتائی گئی ہے۔ ملبے تلے دبے لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ بڑے زلزلے کے جھٹکوں کے بعد مسلسل آقٹر شاکس کے سلسلے نے انتہائی زیادہ خوف و ہرس پیدا کر رکھا ہے۔۔

زلزلے کا مرکز موزین شہر کے آس پاس کا علاقہ تھا جس سے 160 کلو میٹر دور دارالحکومت کوئیٹو میں بھی عمارتیں ہل گئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق متاثرہ علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصانات کی وجہ سے زلزلے سے متاثرہ متعدد مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہے اور ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ ایکواڈور میں سن 1979ء کے بعد پہلی دفعہ اتنی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

Ecuador Erdbeben

متاثرہ علاقوں سے عام لوگ محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں

اتوار کو زلزلے کے مرکزی علاقے کے ارد گرد کے کم آبادی والے ساحلی علاقوں اور ماہی گیری کے اعتبار سے اہم مقامات اور سیاحتی ساحلوں پر امدادی کارکنوں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ریکٹر اسکیل پر 7.8 کی شدت کے زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے۔

ایپی سینٹر سے نزدیک 40 ہزار نفوس پر مشتمل آبادی والے ایک قصبے پیڈرکے میئیر جبریل السیوار کے بقول،’’ہم اپنی بساط کے مطابق سب کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ہم بے بس ہیں اور کچھ بھی نہیں کر سکتے۔‘‘ انہوں نے حکام سے التجا کی ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں زمین بوس ہوجانے والی درجنوں عمارتوں اور ان کے ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے کے لیے کھدائی کرنے والی زیادہ سے زیادہ مشینیں بھیجی جائیں۔

جبریل اسیوار کے مطابق زلزلے کے بعد آنے والی تباہی کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں بُری طرح کی افراتفری اور لوٹ مار مچ گئی ہے اور امدادی کارکُن اس صورتحال پر قابو نہیں پا سکتے کیونکہ وہ اپنی تمام تر کوششیں بچ جانے والوں کو باہر نکالنے کے عمل پر صرف کر رہے ہیں۔

Ecuador Erdbeben

زلزلے سے نجی و سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے

زلزلے کے سبب شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق زلزلے سے گوایا کل نامی شہر میں ایک فلائی اوور تباہ ہوگيا ہے جبکہ کئی علاقوں میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

دی پیسیفک سونامی وارنگ سینٹر نے ساحلی علاقوں میں 300 کلو میٹر کے اندر تک خطرناک قسم کی لہریں اٹھنے کے خدشے سے انتباہ کیا ہے۔

ایکواڈور کے نائب صدر جارج گلاس نے گزشتہ شب ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان میں ابتدائی رپورٹوں کے حوالے سے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 41 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ،’’ 1979 ء کے بعد ملک میں آنے والا یہ شدید ترین زلزلہ ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویروں اور ویڈیوز میں متعدد کئی منزلہ عمارتوں کو زمیں بوس ، شاپنگ سینٹرز کی اُڑی ہوئی چھتوں اور زلزلے کے جھٹکوں سے ان کے لرزتے ہوئے شیلفز دیکھے جا رہے ہیں۔

DW.COM