1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایکواڈور میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

ایکواڈور میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ صدر رافیل کورئیا نے سکیورٹی فورسز اور اپوزیشن پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔

default

ایکواڈور کے صدر رافیل کورئیا گیس ماسک پہنے ہوئے ہیں

ایکواڈور کے دارالحکومت کیوٹومیں جمعرات کو پولیس اور صدر رافیل کورئیا کے حامی مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ اس موقع پر صدر رافیل کورئیا آنسو گیس کا شیل لگنے سے زخمی ہو گئے۔ وہ علاج کے لئے ایک پولیس ہسپتال میں موجود ہیں جبکہ صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز انہیں ہسپتال سے نکلنے نہیں دے رہیں تاہم رات گئے فوج نے ہسپتال پر کارروائی کرتے ہوئے صدر کو اپنے محل واپس پہنچا دیا۔ رافیل کورئیا نے بعد ازاں اپنےحامیوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب میں ان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

دوسری جانب صدر کے زخمی ہونے کے بعد ہسپتال کے باہر بھی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ کم از کم 50 افراد زخمی ہیں جبکہ ایک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے، جس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سکیورٹی امور کے لئے ذمہ دار وزیر میگوئیل کارواجال کا بھی کہنا ہے کہ ایک ہلاکت کی غیرمصدقہ اطلاع ہے۔

Ecuador Demonstranten Proteste Unruhen Polizei

سکیورٹی فورسز حکومت کے بچت پروگرام سے نالاں ہے

بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے کیوٹو کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جبکہ قومی اسمبلی سمیت متعدد سرکاری عمارتوں کو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ بحران کی اس صورت حال میں لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

قبل ازیں ایکواڈور کے صدر رافیل کورئیا نے فوجیوں کی بیرکس میں خطاب کرتے ہوئے کہا، ’اگر تم صدر کو قتل کرنا چاہتے ہو، تو وہ یہاں ہے، اسے مار دو، اسے مار دو اگر تم اتنے ہی بہادر ہو۔‘

بیرکس میں حالات بگڑنے پر کورئیا وہاں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے جبکہ اسی دوران وہ آنسو گیس کا شیل لگنے سے زخمی بھی ہوئے۔

رافیل کورئیا نے اپوزیشن، پولیس اور فوج کے بعض عناصر کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ تاہم فوجی سربراہ نے رافیل کورئیا سے وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب دارالحکومت کیوٹو کے ہوائی اڈے کا کنٹرول بھی فوج نے سنبھال لیا، جس کے بعد ایئرپورٹ کئی گھنٹوں تک بند رہا۔

ایکواڈور میں سرکاری ملازمین کی مراعات میں کمی پر یہ صورت حال پیدا ہوئی، جس پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

اُدھر امریکہ سمیت مختلف ممالک نے رافیل کورئیا کو حمایت کا یقین دلایا ہے۔ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے کہا ہے کہ کورئیا کی زندگی خطرے میں ہے اور انہیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ پیرو اور کولمبیا نے کورئیا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ایکواڈور کے ساتھ ملنے والی اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ