1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ایڈومینی کیمپ کو مہاجرین سے خالی کرا لیا گیا

شمالی یونان میں واقع ایڈومینی کا مہاجر کیمپ مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ دوسری طرف بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوشش میں مزید تیس مہاجرین کے ہلاک ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یونانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھبیس مئی بروز جمعرات ایڈومینی کا مہاجر کیمپ خالی کرا لیا گیا۔ یورپ کو درپیش مہاجرین کے بدترین بحران میں یہ کیمپ مہاجرین اور تارکین وطن کی ابتر صورتحال کی علامت بن چکا تھا۔

یونانی پولیس کے مطابق گزشتہ تین دنوں سے جاری آپریشن کے آخری روز یعنی جمعرات کو چار ہزار مہاجرین کو ایڈومینی کے کیمپ سے نکال کر یونان کے صنعتی شہر سالونیکی کے نواح میں قائم کیے گئے ایک نئے کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔

ایڈومینی میں پولیس ذارئع نے اے ایف پی کو بتایا، ’’انخلاء کا ہمارا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اب یہاں کوئی مہاجر نہیں بچا ہے۔ امدادی اداروں کی طرف سے نصب کردہ کچھ خیمے اور دیگر اشیاء ہی یہاں رہ گئی ہیں۔‘‘

ایڈومینی کا مہاجر کیمپ مہاجرین کی ابتر صورتحال کی علامت بن چکا تھا۔ بلقان کی ریاستوں کی طرف سے اپنی سرحدی گزرگاہوں کو بند کر دینے کے بعد ایڈومینی میں مہاجرین کی تعداد انتہائی زیادہ ہو گئی تھی، جو شمالی اور وسطی یورپ کی طرف جانے کے خواہش مند تھے۔

دس ہزار سے زائد مہاجرین والے ایڈومینی کے کیمپ میں نہ تو تمام مہاجرین کے لیے رہائش کا مناسب انتظام تھا اور نہ ہی انہیں امدادی اشیاء کی فراہمی ممکن ہو رہی تھی۔ ساتھ ہی وہاں ابتر حالات کی وجہ سے طبی مسائل کا بھی خطرہ پیدا ہو چکا تھا۔

یونانی حکومت گزشتہ کئی مہینوں سے اس کوشش میں تھی کہ ایڈومینی میں عارضی پڑاؤ ڈالے ہوئے مہاجرین کو دیگر لیکن بہتر انداز میں بنائے گئے مہاجر کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے حکام نے ان مہاجرین کو وہاں سے نکل جانے کی ہدایات بھی جاری کر رکھی تھیں۔

تاہم ایڈومینی میں موجود ان مہاجرین کو امید تھی کہ ایک دن بلقان کی ریاستیں اپنی سرحدی گزر گاہوں کو دوبارہ کھول دیں گی اور وہ یورپ کے دیگر ممالک کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکیں گے۔ لیکن گزشتہ کچھ ہفتوں سے ان کی یہ امید بھی ٹوٹ گئی تھی۔

ایڈومینی کے اس مہاجر کیمپ سے مہاجرین کا انخلاء ایک ایسے دن ممکن ہوا، جب لیبیا سے یورپ کے لیے روانہ ہونے والی ایک کشتی ڈوب گئی۔ حکام نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کم ازکم تیس مہاجرین اس حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یورپی یونین کے بحری دستوں کے مطابق 77 افراد کو بچا لیا گیا۔

حکام نے بتایا ہے کہ سمندری علاقے کی فضا سے نگرانی پر مامور لکسمبرگ کے ایک ہوائی جہاز نے اس کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں اطلاع دی تھی، جس کے بعد یورپی یونین کی بحریہ نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔ اطالوی بحریہ نے بدھ کے دن بھی بحیرہ روم میں پانچ سو باسٹھ مہاجرین کو بچا لیا تھا۔ مجموعی طور پر اس ہفتے کے دوران بحیرہ روم کے ذریعے شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے چھ ہزار افراد کو بچایا جا چکا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:08

اڈومينی کے مہاجر کيمپ کو خالی کرانے کا کام

DW.COM

Audios and videos on the topic