1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایڈورڈ کینیڈی کی آخری رسومات، اوباما کی شرکت

سابق امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ کینیڈی کی آخری رسومات آج بوسٹن میں ادا کی گئیں۔ ان کی تدفین واشنگٹن میں ہو گی، جہاں انہیں ان کے بھائیوں، سابق صدر جان ایف کینیڈی اور سینیٹر رابرٹ کینیڈی کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔

default

USA Präsidentschaftswahlen Wahlkampf Barack Obama Video

اوباما سمیت سابق امریکی صدور جمی کارٹر، بل کلنٹن اور جارج بش بھی ایڈورڈ کینیڈی کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے پہنچے

کینیڈی کی آخری رسومات بوسٹن کے 130 سالہ قدیم رومن کیتھولک گرجا گھر میں ادا کی گئیں۔ تقریب میں امریکی صدر باراک اوباما، سابق صدور جمی کارٹر، جارج ڈبلیو بش، بل کلنٹن اور ارکان کانگریس بھی شریک ہوئے۔

بوسٹن میں ہفتہ کو بارش ہوتی رہی تاہم عوام کی ایک بڑی تعداد نے اپنے ہر دلعزیز رہنما کینیڈی کو رخصت کرنے کے لئے 'آور لیڈی آف پرپیچوئل ہیلپ' یعنی 'خاتونِ دائمی مددگار' گرجاگھر کا رُخ کیا۔ یہی وہ گرجا گھر ہے، جہاں 2003 میں ایڈورڈ کینیڈی اُس وقت دُعا کے لئے روزانہ جایا کرتے تھے، جب پھیپڑوں کے عارضے میں مبتلا ان کی بیٹی کارا قریبی ہسپتال میں زیرعلاج تھی۔

ایڈورڈ کینیڈی کو امریکی سیاست کی ایک قدآور شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ 50 برس کے دوران امریکہ میں بڑے پیمانے پر سماجی تبدیلیوں کے لئے خدمات سرانجام دیں۔

John F. Kennedy

سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی

امریکی سینیٹرز اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی ہفتہ کو کینیڈی خاندان کی تسلی کے لئے بوسٹن پہنچے۔ ان میں بیشتر سابق سینیٹزز ایسے بھی تھے، جو ماضی میں پالیسی سازی کے دوران کینیڈی کے مخالف رہے۔ اس موقع پر ہالی وُڈ اسٹار جیک نکلسن اور سپریم کورٹ کے جسٹس اسٹیفن بریئر بھی موجود تھے۔

ایڈورڈ کینیڈی کی وفات پر امریکی عوام اور رہنماؤں کا رد عمل کچھ ایسا ہے، جیسے وہ ملک کے صدر رہے ہوں۔

وہ ایک برس تک دماغی سرطان میں مبتلا رہے اور گزشتہ منگل کو انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر77 برس تھی۔ جمعرات اور جمعہ کو بوسٹن ہی میں ہزاروں افراد نے ان کا آخری دیدار کیا۔

ایڈورڈ کینیڈی کے بھائیوں سابق صدر جان ایف کینیڈی اور سینیٹر رابرٹ کینیڈی کو 1960ءکی دہائی میں قتل کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM