1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایڈورڈ سنوڈن کا مجسمہ ایک بار پھر منظر عام پر

امریکی حکومت کے خفیہ راز فاش کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن کے سر کا ایک مجسمہ جمعے کے روز نیویارک میں ہونے والے ایک اسٹریٹ فیسٹول میں رکھ دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اس مجسمے کو پولیس اٹھا کر لے گئی تھی۔

امریکی انٹیلجنس ادارے کے سابق اہل کار ایڈورڈ سنوڈن کا پینتالیس کلو وزنی مجسمہ مین ہیٹن کے ’’لِٹل اٹلی‘‘ نامی علاقے میں رکھ دیا گیا ہے جہاں ’’لو مان آرٹ فیسٹیول‘‘ میں شریک لوگوں اور سیاحوں کا جمگھٹا لگا ہوا ہے۔ اتوار کے روز میلے کے اختتام تک متنظمین اس مجسمے کی چوبیس گھنٹے حفاظت کریں گے۔

نیویارک میں سنوڈن کے مجسمے کی دوبارہ نمائش سے چار ماہ قبل اس کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اسے ’’وار میموریل‘‘ میں بغیر اجازت کے رکھا گیا تھا۔ جیف گرینسپین اور اینڈریو ٹائیڈر نامی مجسمہ سازوں کے مطابق انہوں نے اپریل کے مہینے میں سنوڈن کا مجسمہ بروکلین میں امریکی انقلاب کے جنگی میوزئیم کے سامنے اس لیے رکھ دیا تھا کہ لوگوں کو جدید استعماری قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے افراد کی قربانیوں کے بارے میں علم ہو سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’سنوڈن نے ان ہی نظریات کی حفاظت کی جو میموریئل میں موجود عظیم امریکیوں نے پیش کیے تھے۔‘‘

میلے کے منتظمین کو اس بات کی فکر نہیں کہ سنوڈن کا مجسمہ تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مکالمہ ہو، چاہے لوگ اختلاف کریں یا اتفاق۔

امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے بتیس سالہ سابق کانٹریکٹر سنوڈن سن دو ہزار تیرہ سے روس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے این ایس اے کے اہل کار کی حیثیت سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے وسیع جاسوسی پروگرام پر سے پردہ اٹھایا تھا۔ امریکی حکومت نے سنوڈن کو غدار اور ہیکر قرار دیا ہے حالاں کہ ان کو دو مرتبہ نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔ سنوڈن آزادیٴ اظہار کی بالادستی سے متعلق متعدد مؤقر بین الاقوامی انعام جیت چکے ہیں۔

فیسٹیول کے منتظمین کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ وہ انیس سو ستر اور اسّی کی دہائی کے اسٹریٹ آرٹ کو اجاگر کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیویارک کے اسٹریٹ آرٹ اور ضمنی کلچر کی وجہ سے نیویارک کا شمار دنیا کے شان دار ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ اس میلے میں دنیا بھر سے دو درجن کے قریب ایسے فن کاروں کو مدعو کیا گیا ہے جو دیوراوں پر دیو قامت تصاویر بناتے ہیں۔